خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 420

خطبات محمود ۴۲۰ سال ۱۹۳۵ء ہائی کورٹ کے فیصلہ کی اپیل پر یوی کونسل سن نہیں سکتی اور حکومت ہند حکومت پنجاب کے معاملات میں دخل دے سکتی ہے۔اب چونکہ تفصیلات کا وقت نہیں میں اسی پر ختم کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ صدر انجمن احمد یہ جلد سے جلد اس امر کا فیصلہ کرائے گی اور حکومت سے ہاں یا نہ میں کوئی جواب لے کر جماعت کو اس سے آگاہ کرے گی تاجب جماعت دیکھے کہ صدرانجمن کچھ نہیں کر سکتی تو وہ خود کچھ کرے۔ایگز یکٹو کا فرض ہوتا ہے کہ جماعت کو بتائے کہ وہ کس پانی میں ہے اس لئے صدر انجمن کا فرض ہے کہ وہ جلد سے جلد اس کا تصفیہ کرائے اور اگر حکومت پنجاب اس طرف توجہ نہ کرے تو حکومت ہند سے اپیل کرے۔اس کے بعد کیا کرنا ہے یہ میں پھر بتاؤں گافی الحال اسی پر خطبہ ختم کرتا ہوں اور جماعت کو پھر نصیحت کرتا ہوں کہ قادیان ہمارا مقدس مقام ہے تمہارے اندر جتنا جوش ہے وہ ایمان کی علامت ہے۔جوشوں کو میں بُرا نہیں کہتا ، ان کی مذمت نہیں کرتا بلکہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور جتنا زیادہ جوش کسی نے دکھایا اتنا ہی ثواب وہ پائے گا لیکن اس کے باوجود اگر جانیں دے کر بھی تمہیں قادیان کو فساد سے بچانا پڑے تو بچاؤ اور ثابت کر دو کہ تم اسے دارالامان سمجھتے ہو اور سمجھتے رہو گے پھر قانون کو کبھی ہاتھ میں نہ لو، قانون کا احترام کرو اور قانون کے اندر رہتے ہوئے ایسے رستے تلاش کرو جن سے تمہاری تکلیف کا ازالہ ہوا اور یقین رکھو کہ ایسے رستے تمہیں ضرور مل جائیں گے ، باقی دعائیں کرو۔اللہ تعالیٰ سے جو مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے رستے کھول دیتا ہے۔جوشوں کو اس طرح استعمال کرو کہ جوش کے وقت دعائیں کرو۔جوش کی دعا تیر بہدف ہوتی ہے اور دعا کرو کہ جو قادیان کے امن کو برباد کرتا ہے اگر وہ ہدایت نہیں پاسکتا تو اللہ تعالیٰ اسے عبرت ناک سزا دے۔تمہاری طرف سے اللہ تعالی تلوار چلائے گا۔دیکھو! ایک احمدی نے غلطی سے ایک شخص کو مار دیا اور وہ بھی لڑائی میں تو اس سے سلسلہ کو کتنا بد نام کیا جاتا ہے لیکن کابل میں ہمارے جو احمدی مارے گئے ان کا کوئی ذکر بھی نہیں کرتا۔اس کے مقابل میں بہار کی تباہی ، کوئٹہ کی تباہی ، کانگڑہ کی تباہی کا کوئی نام نہیں لیتا اور کوئی انکو تمہاری طرف منسوب نہیں کرتا حالانکہ وہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انکار کی وجہ سے آئے تھے اور ان کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں نے احمدیت کو قبول کیا پس جو خدا کا کام ہے اسے خود نہ کرو۔روٹی پکانے والی عورت اگر سالن پکانے لگے گی تو اسے خراب کر دے گی اور سالن پکانے والی روٹی پکانے لگے تو اسے خراب کر دے گی اسی طرح تم اگر خدا کا کام کرنے لگو گے تو اسے خراب کر دو