خطبات محمود (جلد 16) — Page 417
خطبات محمود ۴۱۷ سال ۱۹۳۵ء ذمہ دار ہوں ۔ اتنے میں وہ دوست جنہیں میں نے پتہ لینے کے لئے بھیجا تھا ، واپس آ گئے اور کہا کہ نہ وہاں کوئی لڑائی ہے نہ فساد اور نہ کوئی آدمی ہے اور جب میں نے پتہ کیا کہ یہ لوگ دوبارہ کیوں دوڑے تھے تو معلوم ہوا کہ اسی متفتی نے جس نے یہ خبر مشہور کی تھی چپکے سے آ کر کہا تھا کہ تم یہاں کھڑے رہو اور کئی احمدی اتنے میں مارے جائیں گے ۔ اگر یہ لوگ اس وقت بازار میں پہنچ جاتے تو بغیر سوچے سمجھے جو ہندو سامنے آتا اس کا سر پھوڑتے جاتے کیونکہ انسان جب جوش میں ہوتا ہے تو یہ نہیں دیکھتا کہ کون گنہگار اور کون بے گناہ ہے وہ کوئی کمیشن نہیں بٹھا یا کرتا ۔ یہاں کئی ہندو اور سکھ ہیں جو ہم سے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں مگر ظاہر نہیں کرتے پھر کئی ظاہر کر بھی دیتے ہیں اور کئی بے تعلق بھی رہتے ہیں اور فساد میں ایسے لوگوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ پس مؤمن کا حملہ اس رنگ میں ہوتا ہے کہ غیر مجرم کو نقصان نہ پہنچے اس لئے یہ مت خیال کرو کہ خدا نے تم میں مقابلہ کی طاقت نہیں رکھی ، رکھی ہے اور ضرور رکھی ہے مگر تمہارا حملہ اس رنگ میں ہونا چاہئے کہ اس میں شریعت اور قانون دونوں کا احترام پایا جائے ۔ اس کے علاوہ آپ لوگوں پر ایک اور ذمہ داری بھی ہے ۔ قادیان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مَنْ دَخَلَه كَانَ آمِنًا۔ کے جو کوئی اس میں داخل ہو گا وہ امان پا جائے گا۔ پس اگر ہم یہاں دشمن کو بھی ماریں تو گویا اپنے عمل سے اس الہام کی تردید کریں گے ۔ یہی بات اللہ تعالٰی نے مکہ کے متعلق فرمائی ہوئی ہے اور رسول کریم ﷺ نے نہایت نازک مواقع پر اس کا خیال رکھا ہے ۔ حتی کہ وہ قوم جو انیس سال تک آپ پر ظلم کرتی رہی غور کرو یہ کتنا لمبا عرصہ ہے پھر مظالم بھی کوئی معمولی نہ تھے عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے مار مار کر انہیں ہلاک کیا گیا ، مردوں کو ایک ٹانگ ایک اونٹ کے ساتھ اور دوسری دوسرے کے ساتھ باندھ کر چیر ڈالا گیا ، آنکھیں نکال لی گئیں ، مکہ جیسے گرم علاقہ میں اُن پتھروں پر جو اس قدر گرم ہو جاتے تھے کہ اُن پر روٹیاں پکائی جا سکتی تھیں ساری ساری گرمیاں مسلمانوں کو ننگے بدن لٹایا جاتا رہا حضرت بلال کے متعلق آتا ہے کہ ایک دفعہ آپ کا کپڑا اُلٹ گیا تو کسی نے دیکھا کہ کھال گینڈے کی طرح سخت تھی اور سیاہ تھی ۔ آپ سے پوچھا یہ کیا بات ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ جب ہم اسلام لائے تو گرم پتھروں پر سارا سارا دن لٹایا جاتا تھا اس وجہ سے کھال چمڑے کی طرح ہو گئی ہے۔ مگر ان سب باتوں کے باوجود رسول کریم جب ہزار ہا سپاہیوں کے ساتھ عمرہ کی نیت سے مکہ کو روانہ ہوئے اور دشمن نے آپ کو اس سے روکا صلى الله عل