خطبات محمود (جلد 16) — Page 416
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء سمجھ سکتے کہ اگر شہر کے مالکوں پر اس طرح حملے ہونے لگیں تو ہم کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اگر فساد ہو جائے تو ایسے لوگوں کو بھی خواہ مخواہ نقصان پہنچ جاتا ہے۔سواگر کسی ایسے آدمی کو نقصان پہنچے جس کا کوئی قصور نہ ہو تو یہ کس قدر گناہ ہوگا اور پھر جب اس قسم کے فسادات ہوتے ہیں تو اور بھی کئی طرح کے نقصانات ہوتے ہیں۔مکانات جلا دیئے جاتے ہیں، دکانیں لوٹ لی جاتی ہیں اور غور کرو یہ کتنے گناہ کی بات ہے کہ ہمارے ہاتھ سے کسی ایسے شخص کو نقصان پہنچے جس کا کوئی قصور نہیں۔جانے دو اس امر کو کہ شریعت کا کیا حکم ہے لیکن کیا بے گناہوں کا مارا جانا ہی اس بات کے لئے کافی نہیں کہ فساد نہ کیا جائے۔ایسے مواقع بڑے خطرناک ہوتے ہیں میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ یہی ہندو جو اب شرارت کر رہے ہیں پہلے بھی کیا کرتے تھے ایک دفعہ وہ کوشش کر رہے تھے کہ کسی طرح فساد ہو چنانچہ مشہور کر دیا گیا کہ لڑائی ہوگئی ہے اور نیر صاحب مارے گئے ہیں اور بعض اور احمدی زخمی ہوئے ہیں اور اتفاقاً نیسر صاحب مدرسہ سے فارغ ہو کر اس طرف سے گزرے تھے۔اس خبر کے سنتے ہی لڑکے سٹکیں لے کر اس طرف کو اُٹھ دوڑے۔میں اُس وقت حضرت (اماں جان ) کے دالان میں کھڑا تھا۔دوڑنے کی آواز جو آئی تو میں عجوبہ کے طور پر دیکھنے کے لئے گلی کی طرف گیا اور لڑکوں کو دوڑتے ہوئے دیکھا ان کے آگے آگے ہمارے مبلغ جاوا مولوی رحمت علی صاحب تھے میں نے مولوی صاحب کو آواز دی کہ ٹھہر و مگر انہوں نے پرواہ نہ کی۔پھر آواز دی خیر وہ ٹھہرے تو میں نے پوچھا کہ کیا بات ہے ؟ اس وقت وہ تھر تھر کانپ رہے تھے اور کہنے لگے حضور ! کئی احمدی مارے گئے ہیں۔میں نے کہا تمہارا کام یہ نہیں تھا کہ اس طرف اٹھ بھاگتے بلکہ تمہیں چاہئے تھا مجھے اطلاع دیتے۔اُس وقت قاضی عبد اللہ صاحب یا کوئی اور دوست اس طرف سے گزر رہے تھے میں نے انہیں بھیجا کہ جا کر پتہ لگا ؤ اور ان لوگوں کو اطمینان دلا کر میں خود ذرا ٹہلنے لگا۔اس پر پھر آہٹ ہوئی اور میں نے دیکھا تو یہ لوگ پھر بھاگ رہے تھے میں نے آواز دی مگر نہ ٹھہرے اور اسوقت تک وہ اس موڑ سے سات آٹھ گز کے فاصلہ پر پہنچ چکے تھے جو میاں بشیر احمد صاحب کے مکان کا ہے۔میں نے پھر آواز دی کہ ٹھہر ومگر وہ نہ ٹھہرے، پھر کہا ٹھہر و مگر انہوں نے پرواہ نہ کی ، اُس وقت مجھے صرف ایک ہی علاج نظر آیا اور میں نے کہا کہ اگر ایک قدم بھی آگے بڑھے تو میں جماعت سے خارج کر دوں گا۔اس پر وہ ٹھہر تو گئے مگر غصہ سے کانپ رہے تھے اور کہتے جاتے تھے حضور ! احمدی مارے گئے۔میں نے کہا تم ذمہ دار نہیں ہو ، میں