خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 415

خطبات محمود ۴۱۵ سال ۱۹۳۵ء نے لاہور سے فلاں شخص کے نام قادیان میں خط لکھا ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر تم احمدیوں کے بڑے آدمیوں پر حملہ کرو۔یہ سب باتیں ہم اُسی وقت پیش کریں گے جب ایک آزاد کمیشن ان باتوں کی تحقیقات کے لئے مقرر کیا جائے گا۔خط لکھنے والے کا نام ، جس کی طرف خط لکھا گیا اس کا نام ، انفارمر کا نام اور شاید اگر ضروری ہوا تو ایک انفارمر کی تحریر بھی ہم اس وقت پیش کر دیں گے۔یہ وقوعہ سے پہلے کی رپورٹ ہے اور اس کے بعد حملہ ہوا۔یہ دو باتیں نہایت اہم ہیں اور انہیں ہم نظر انداز نہیں کر سکتے اور ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وقوعہ ایک سلسلہ کی کڑی ہے اس لئے اسے بالکل معاف نہیں کیا جا سکتا ہے۔یہ میں آگے چل کر بحث کروں گا کہ ہم کو کیا کرنا چاہئے اور ہم کیا کریں گے لیکن یہ ظاہر ہے کہ اگر ہم اسے خاموشی سے برداشت کر لیں تو اس کے نتائج نہایت خطرناک ہوں گے۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ سم والا مضبوط اور موٹا ڈنڈا تھا اور اُس کی ضربوں کے نشانات بھی میں نے دیکھے ہیں ایک سات انچ اور ایک چار انچ لمبا تھا اور سوا یا ڈیڑھ انچ کے قریب چوڑا۔یہ سر پر ضرب لگانے کے لئے حملہ کیا گیا تھا۔آج ہی مجھے رپورٹ ملی ہے کہ ایک احراری نے کہا کہ اس نا معقول کو جس طرح کہا گیا تھا اس طرح اس نے کیا نہیں اور معمولی ضربیں لگا دی ہیں لیکن اب ہم مجبور ہیں کہ اس کی مدد کریں۔اگر یہ روایت درست ہے تو اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ نیت اور ارادہ قتل کا تھا اس لئے یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ نتیجہ کیا ہوا بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ ارادہ کیا تھا۔اگر ایک شخص کسی پر بم پھینکے اور وہ بچ جائے تو اس سے حملہ کی اہمیت کم نہیں ہو جاتی۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ اس نے بچا لیا اور اس شرارت کے بدنتائج سے جماعت کو محفوظ رکھا اور نہ نیت تو اس حملہ سے یہ تھی کہ دونوں قوموں میں خون ریزی ہو۔پھر میں اس طرف بھی جماعت کو تو جہ دلاتا ہوں کہ ایسے مواقع پر یہ بھی ہوتا ہے کہ فساد ہو تو کئی بے گناہ مارے جاتے ہیں بلکہ ایسے مواقع پر ہمیشہ مارے ہی بے گناہ جاتے ہیں۔لاہور میں ابھی فساد ہؤا ، دو سکھ مارے گئے حالانکہ ان کا کوئی قصور نہ تھا۔انہیں شاید پتہ بھی نہ ہو کہ کوئی مسجد گرائی گئی ہے یا اخباروں سے پڑھ کر اگر کوئی خیال پیدا بھی ہوا ہو تو انہوں نے عملاً کوئی حصہ نہ لیا ہوا اور جو مسجد گرانے والے ہیں وہ دندناتے پھرتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ یہاں کے ہندوؤں ،سکھوں کا ایک طبقہ شریر بھی ہے لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو گو کھلم کھلا ہماری تائید نہیں کرتا مگر شرارت میں شریک نہیں۔چنانچہ ایسے لوگوں کا ایک وفد میرے پاس آیا اور اس نے اس فعل پر سخت نفرت کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم نہیں