خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 408

خطبات محمود ۴۰۸ سال ۱۹۳۵ء طرح احمدیوں نے حملہ کیا اور بلوہ ہو گیا۔میں تمہارے اندر یہ روح پیدا کر نا نہیں چاہتا کہ اگر کوئی شخص تم کو مارے بھی تو تمہارا بولنا مفا د سلسلہ کے لئے مضر ہے۔جماعتوں میں لوگ پکڑے بھی جاتے ہیں، پیٹے بھی جایا کرتے ہیں اور قید بھی ہو جاتے ہیں لیکن اس کو نظر انداز کر کے میں جس پہلو کو لے رہا ہوں وہ یہ ہے کہ اس حملہ کی غرض یہ تھی کہ فساد کر کے جماعت احمدیہ کو بدنام کیا جائے اور یہ ثابت کیا جائے کہ جماعت احمد یہ فساد کرتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ وہ دشمن جو ہمیں ذلیل کرنا چاہتا تھا خود دنیا کی نظروں میں ذلیل ہو گیا۔دشمن کی شدید انگیخت کے باوجود یہاں امن قائم رہا۔گویا صیاد نے جو دام ہمارے لئے بچھایا تھا وہ خود اس کا شکار ہو گیا۔جب دنیا کے سامنے یہ بات آئے گی کہ اس حملہ سے پہلے ہمیں اس کی اطلاع تھی اور ہم نے حکومت کو بھی اس کی اطلاع دے دی تھی جس نے قطعاً کوئی کارروائی نہیں کی اور وہ یہ واقعات پڑھے گی کہ ایک ذلیل گداگر جس کی ساری عمر احمدیوں کے ٹکڑوں پر بسر ہوئی ہے ، مرزا شریف احمد صاحب پر حملہ آور ہوا اور احمدی پھر بھی خاموش رہے تو وہ وقت تمہاری فتح کا ہوگا۔ہماری جماعت تاریخی جماعت ہے ، آئندہ کوئی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی جب تک وہ جماعت احمدیہ کی تاریخ کا ذکر نہ کرے اور یہ جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے سب دنیا پر چھا جانے والی ہے پس جو کچھ تم سے ہو رہا ہے اس کا بدلہ تاریخ لے گی۔اور آج جو لوگ تمہارے حقوق تلف کر رہے ہیں ان کی نسلیں انہیں گالیاں دیں گی کیونکہ کون ہے جو اپنے آباء کی شرارتوں کا ذکر تاریخوں الله میں پڑھ کر شرمندہ نہیں ہوتا۔بے شک آج لوگ ہم پر ظلم کر کے بنتے ہیں جس طرح رسول کریم علی پر اونٹوں کی اوجھڑی ڈالنے والے ہنستے تھے۔ان لوگوں کو کیا معلوم تھا کہ ان کی اس حرکت کو ہزار ہا سال تک یا درکھا جائے گا اور یہ ہمیشہ کے لئے ان کی ناک کاٹنے کا موجب ہو جائے گی۔آج بھی ہمارے دشمن اور بعض حکام خوش ہوتے ہیں اور اسے ایک کھیل سمجھتے ہیں مگر انہیں کیا معلوم کہ یہ باتیں تاریخوں میں آئیں گی۔بڑے سے بڑے مورخ کے لئے یہ ناممکن ہو گا کہ ان واقعات کو نظر انداز کر دے کیونکہ ان کے بغیر اس کی تاریخ نامکمل سمجھی جائے گی۔پڑھنے والے ان باتوں کو پڑھیں گے اور حیران ہوں گے ان لوگوں کی انسانیت پر جنہوں نے یہ افعال کئے اور حیران ہوں گے ان حکام کے رویہ پر جنہوں نے علم کے باوجود کوئی انتظام نہ کیا اور آنے والی نسلوں کی رائے ان کے خلاف ہوگی ، ان کی وہ چیز جس کے لئے انسان جان کی قربانی بھی کر سکتا ہے یعنی نیک نامی بر باد ہو جائے گی۔پس