خطبات محمود (جلد 16) — Page 381
خطبات محمود ۳۸۱ سال ۱۹۳۵ء ملے ہیں اور پرانے زمانہ کو یاد کر کے نہ ان سے برداشت ہوسکا اور نہ ہم سے۔پس ہمارے ایمان کی بنیاد ہی نشانوں پر ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ سب گورے اور کالے اسی ڈیوڑھی پر آئیں گے۔کوئی اٹھارہ سال کا عرصہ ہو ا یعنی اپنی خلافت کے ابتدائی سالوں میں ہی میں نے دو تین بار یہ نظارہ دیکھا کہ یہ مسجد جس میں میں اب کھڑا ہوں اتنی بڑی ہے ایک کنارے سے دوسرا کنارہ نظر نہیں آتا۔وائسرائے عقیدت کے ساتھ آئے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بادشاہ سلامت آنا چاہتے ہیں اور وہ ان کی آمد کے سلسلہ میں انتظامات دیکھنے کے لئے آئے ہیں پھر میں نے دیکھا کہ بادشاہ بھی آئے ہیں اور مسجد سے باہر پریڈ کا ملاحظہ کر رہے ہیں۔پس جہاں بادشا ہوں ، وائسرالیوں اور سب چھوٹے بڑے افسروں نے آنا ہے۔یہ عارضی اور وقتی دشمنی ہے جو ناواقفی اور نا سمجھی کے باعث ہے وہ ہمارے نقطہ نگاہ کو نہیں سمجھتے ورنہ حکومت اور بچے مذہب کا باہم تصادم نہیں ہو سکتا۔اور اگر ہو بھی تو یہ حکومت کا قصور ہو گا اور اس کا نتیجہ اسی کے حق میں بُرا ہو گا۔مذہب تو امن قائم کرنے کے لئے آتا ہے اس سے حکومت کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے۔الفضل ۱۵ جولائی ۱۹۳۵ء) ص: ۶ کے تذکرہ صفحہ ۲۰۰۔ایڈیشن چہارم المجادلة: ۲۲