خطبات محمود (جلد 16) — Page 33
خطبات محمود ۳۳ سال ۱۹۳۵ء چاہتا تھا مگر بہر حال قرآن مجید سے یہ ثابت ہے کہ اس نے کہا میری فتوحات روپیہ سے نہیں ہوں گی بلکہ اور چیزوں سے ہوں گی۔پس جنہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے ستائیس ہزار کے مطالبہ پرستر ہزار روپیہ دے دیا اور اب ہمارا فرض ادا ہو گیا وہ غلطی پر ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر ہماری جماعت ستائیس ہزار روپیہ کے مطالبہ پر ستائیس ہزار روپیہ پیش نہ کرتی تو یہ اس کی موت کی علامت ہوتی مگرستر ہزار یا ایک لاکھ روپیہ بھی اکٹھا کر دینا اس کی زندگی کی علامت نہیں کہلا سکتی۔زندگی کی علامت یہ ہے کہ تم میں سے ہر شخص اپنی جان لے کر آگے آئے اور کہے کہ اے امیر المومنین! یہ خدا اور اس کے رسول اور اس کے دین اور اس کے اسلام کے لئے حاضر ہے جس دن سے تم سمجھ لو گے کہ تمہاری زندگیاں تمہاری نہیں بلکہ اسلام کے لئے ہیں، جس دن سے تم نے محض دل میں ہی یہ نہ سمجھ لیا بلکہ عملاً اس کے مطابق کام بھی شروع کر دیا اس دن تم کہہ سکو گے کہ تم زندہ جماعت ہو۔تمہارا منہ سے یہ کہ دینا مجھے کیا تسلی دے سکتا ہے کہ ہماری جان حاضر ہے جبکہ میں تم سے یہ کہوں کہ تم اپنے بارہ مہینوں میں سے تین یا دو ماہ سلسلہ کے لئے وقف کر دو اور تم میرے اس مطالبہ پر خاموش رہو۔اس صورت میں میں کس طرح مانوں کہ تم جانیں فدا کرنے کے لئے تیار اور اسلام کے لئے انہیں قربان کرنے کے لئے حاضر ہو۔اگر تم سال میں سے دو تین ماہ تبلیغ احمدیت کے لئے وقف کر دو تو اس سے کیا ہو گا۔زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا کہ تم ان دو تین ماہ میں اپنے والدین یا بیوی بچوں کو ملنے کے لئے اگر جایا کرتے تھے تو اب نہیں جا سکو گے۔مگر کیا تم نے کبھی غور نہیں کیا کہ ولایت سے ڈپٹی کمشنر اور اعلیٰ حکام جب آتے ہیں تو بعض دفعہ پندرہ پندرہ سال یہاں رہتے ہیں اور اپنے وطن نہیں جا سکتے۔کیا ان کے والدین نہیں ہوتے ، ان کی بیویاں اور بچے نہیں ہوتے پھر انہوں نے تو کالے کوسوں جانا ہوتا ہے مگر تمہیں زیادہ سے زیادہ اپنے ہی ملک کے کسی اور صوبہ میں جانا ہو گا اور وہ بھی نوکریوں یا تجارت اور زراعت سے فراغت کے اوقات میں اور پھر اپنے گھر آ جانا ہو گا۔بلکہ ایک دو سال کیا اگر تمہیں ساری عمر کے لئے خدا اور اس کے دین کے لئے یہ قربانی کرنی پڑے تو تمہیں اس سے دریغ نہیں ہونا چاہئے مگر جس قربانی کا میں تم سے مطالبہ کر رہا ہوں ، وہ تو ایسی ہی ہے جیسے دستر خوان کی بچی ہوئی ہڈیاں۔پس تمہاری چھٹیوں کی مثال تو ہڈیوں یا دستر خوان کے بچے ہوئے ٹکڑوں کی سی ہے۔اور گو اب تم سے روٹی کے بچے ہوئے ٹکڑے مانگے جاتے ہیں مگر کبھی تم سے یہ مطالبہ بھی کیا جائے گا کہ تم اپنی