خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 342

خطبات محمود ۳۴۲ سال ۱۹۳۵ء ہے کہ تکالیف اُٹھا ئیں اور دعائیں کرتے رہیں ہاں جائز ذرائع سے ازالہ کی کوشش بھی ہونی چاہئے۔یا درکھو کہ جلد بازی انسان کو کبھی معزز نہیں بنا سکتی جو شخص جلدی کرتا ہے وہ گو یا ثابت کرتا ہے کہ وہ اپنے نفس سے آپ ڈرتا ہے۔جو شخص جلدی کرنا چاہتا ہے وہ گویا یہ ظاہر کرتا ہے کہ دوماہ کے بعد اس کے ایمان کی یہ حالت نہیں رہے گی اور ظاہر ہے کہ ایسے شخص کے دل میں آج بھی کوئی ایمان نہیں ہے اور صرف اپنے نفس کو دھوکا دے رہا ہے ورنہ دو ماہ تو کیا وہ سال، دو سال ہیں سال بلکہ سو سال کی پرواہ نہ کرتا اور سو سال کے بعد بھی اس کے دل کی کیفیت ویسی ہی ہوتی جیسی اب ہے۔رسول کریم ﷺ نے شرک کی تردید جس زور کے ساتھ پہلے دن کی کیا وفات کے وقت اس میں کوئی کمی آ گئی تھی ؟ نہیں۔بلکہ ہر روز جوش بڑھتا گیا جس جوش و خروش سے آپ نے پہلے دن شرک کی تردید کی تھی وفات کے قریب بھی اسی شدت سے کر رہے تھے بلکہ بہت زیادہ جوش کے ساتھ اور یہی فرق بچے اور جھوٹے میں ہوتا ہے۔جھوٹے اٹھتے ہیں طوفان کی طرح مگر بیٹھ جاتے ہیں جھاگ کی طرح۔اور نیچے اٹھتے ہیں ایسے طوفان کی طرح جو آخر میں جا کر اور بھی شدت اختیار کر لیتا ہے۔رسول کریم ﷺ نے جب دعوی کیا تو فرمایا کہ شرک چھوڑ دو اور وفات کے وقت شرک کی مذمت آپ اس سے بہت زیادہ جوش سے کرتے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وفات کے قریب آپ سخت کرب میں تھے اور کرب کی وجہ سے ادھر اُدھر کروٹیں بدل رہے تھے اور اس وقت آپ کی زبان پر یہ الفاظ تھے کہ اللہ تعالیٰ لعنت کرے یہود و نصاری پر کہ کم بختوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مساجد بنالیا لے اس کا مطلب یہی تھا کہ اے مسلمانو! اگر تم ایسا کرو گے تو تم پر بھی لعنت ہو گی گو یا وفات کے وقت جب انسان کو سب کچھ بھول جاتا ہے اُس وقت بھی آپ یہی تعلیم دے رہے تھے۔پس مؤمن کے لئے بہترین چیز یہی ہے کہ جوشوں کو دبائے اور نیکی و تقوی کو کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑے۔تم اگر دنیا میں کامیابی چاہتے ہو تو یا درکھو اس کے لئے چار گر ہیں جن کو مضبوطی سے پکڑ لو جو قوم ان گروں پر کار بند ہو جائے وہ خواہ تعداد کے لحاظ سے کتنی قلیل کیوں نہ ہوا سے کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی شکست نہیں دے سکتی۔ایک دنیا دار کی نگاہ میں میری باتیں مضحکہ خیز ہوں گی اور فلاسفر انہیں بیہودہ سمجھے گا لیکن مجھے اس سے کوئی غرض نہیں۔میں یہ جانتا ہوں کہ روحانی دنیا میں ان کے بغیر کامیابی نہیں ہوسکتی۔پہلی بات یہ ہے کہ تقویٰ پیدا کرو جب تک تقویٰ نہ ہو خدا تعالیٰ کی نصرت حاصل نہیں ہو سکتی۔