خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 331

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء آبادی نہیں جتنی کوئٹہ میں تھی اس لئے اگر موتوں کی کثرت کا اعتبار کیا جائے اور تمیں چالیس ہزار اور علاقوں کی موتیں سمجھی جائیں تو درحقیقت بلوچستان میں نوے ہزار یا ایک لاکھ تک موتوں کی تعداد پہنچ جاتی ہے۔پھر سب سے عجیب بات جو اس زلزلہ میں ہے یہ ہے کہ اموات کی تعداد زخمیوں اور زندوں سے بہت زیادہ ہے باقی علاقوں کے زلزلوں میں اموات کی تعداد مُردوں اور زخمیوں سے بہت کم تھی۔بہار میں شاید دس فیصدی لوگ مرے تھے اور توے پچانوے فیصدی بچ گئے تھے لیکن کوئٹہ کے زلزلہ میں کم سے کم گورنمنٹ کا اندازہ یہ ہے کہ ستر فیصدی لوگ مرے اور عام لوگوں کا اندازہ یہ ہے کہ نوے فیصدی مرگئے گویا بہار کے زلزلہ کی کیفیت کوئٹہ میں بالکل الٹ گئی۔بہار میں اگر دس فیصدی مرے تھے تو نوے فیصدی بچ گئے تھے اور یہاں اگر دس فیصدی بچے تو نوے فیصدی مر گئے اس کا مطلب یہ ہے کہ اب نہ صرف کوئٹہ شہر نہیں رہا بلکہ اور بھی کئی شہر اور بستیاں دنیا سے مٹ گئیں اور ان کی جگہ نئے شہر اور بستیاں بسیں گی۔یہ استثنائی صورتیں ہیں کہ کسی گھر کے زیادہ آدمی بچ گئے بیشتر مثالیں اس قسم کی ہیں کہ ایک گھر میں سے ایک آدمی بھی نہیں بچا اور ہزاروں مثالیں اس قسم کی ہیں کہ اگر گھر میں دس آدمی تھے تو 9 مر گئے اور ایک بیچ رہا یا آٹھ مر گئے اور دو بیچ رہے یا سات مر گئے اور تین بچ گئے پھر یہ واقعہ ایسا اچانک اور غیر متوقع طور پر ہوا کہ لوگوں کو سنبھلنے کی مہلت بھی نہیں ملی۔اگر لوگوں کا زیادہ حصہ بچ جاتا تب بھی کہا جاتا ایک آفت آئی مگر ٹل گئی لیکن یہاں تو ایک شہر تھا جو نہ رہا، کئی بستیاں تھیں جو نابود ہو گئیں ، جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ بعض شہر ایسے ہیں کہ جب وہ تباہ ہو جائیں گے تو لوگ کہا کریں گے کہ یہاں فلاں شہر آباد ہوا کرتا تھا پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ :۔کئی نشان ظاہر ہوں گے۔کئی بھاری دشمنوں کے گھر ویران ہو جائیں گے۔وہ دنیا کو چھوڑ جائیں گے۔ان شہروں کو دیکھ کر رونا آئے گا۔وہ قیامت کے دن ہوں گئے۔اگر تم ان الہامات کی صداقت دیکھنا چاہتے ہو تو لاہور ، امرتسر، ملتان اور راولپنڈی وغیرہ شہروں میں چلے جاؤ اور ان لوگوں کو دیکھو جو اب کو ئٹہ چھوڑ کر یہاں آئے ہیں۔انہیں اس شہر کو چھوڑے تین تین چار چار دن ہو گئے ہیں مگر اب تک ان کے آنسو تھمنے میں نہیں آتے۔دیکھنے والے بیان کرتے ہیں کہ جب مجروح اور زلزلہ سے بچے ہوئے لوگ پیشل ٹرینوں کے ذریعہ واپس آتے ہیں تو لوگ