خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 330

خطبات محمود ۳۳۰ سال ۱۹۳۵ء۔روپیہ کا نقصان ہوا۔اس کے بعد اب کوئٹہ کا زلزلہ آیا ہے دو ہزار موتوں سے ابتدا کر کے چھپن ہزار موتوں تک کا اقرار اس وقت تک کیا جا چکا ہے گویا کانگڑہ اور بہار کے زلزلہ سے اڑھائی گنا یا اس سے بھی زیادہ موتیں واقع ہوئیں اور ابھی درحقیقت پوری طرح علم نہیں ہو سکا کہ کس قد راموات ہوئیں۔جو اندازہ بتایا جاتا ہے اس کے لحاظ سے صرف کوئٹہ کی موتیں اس سے زیادہ معلوم ہوتی ہیں جتنی بیان کی جاتی ہیں اس لئے کہ کوئٹہ کی آبادی چھتیں ہزار بیان کی جاتی ہے اور گرمیوں کے دنوں میں باہر کے ان لوگوں کو ملا کر جو وہاں تبدیلی آب و ہوا کے لئے چلے جاتے ہیں ساٹھ ہزار تک تعداد پہنچ جاتی تھی۔مردم شماری چونکہ جنوری میں ہوتی ہے اور یہ پہاڑی علاقوں میں خصوصیت سے سخت سردی کے دن ہوتے ہیں اور اکثر لوگ میدانی علاقوں میں واپس آ جاتے ہیں اس لئے تعداد کا جو بھی اندازہ کیا جائے گرمیوں میں باہر سے آنے والے لوگ اس تعداد میں اضافہ کر دیتے ہیں اور اس طرح آبادی اصل آبادی سے بہت زیادہ ہو جاتی ہے مثلا شملہ کی آبادی سردیوں کے ایام میں بہت کم ہو جاتی ہے مگر گرمیوں کے دنوں میں اس سے قریباً تین گنے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔کوئٹہ کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ اس کی اوسط آبادی چھتیں ہزار ہے اور چوبیس ہزار اگر اس میں وہ لوگ شامل کر لئے جائیں جو گرمیوں میں وہاں چلے جاتے تھے تو یہ تعداد ساٹھ ہزار بن جاتی ہے چھاؤنی اور اس کے متعلقات کی آبادی چوبیس ہزار ہے اس طرح یہ تمام تعداد مل کر چوراسی ہزار بن جاتی ہے۔بیان کیا جاتا ہے کہ زلزلہ کی نقصان رسانی سے اکثر فوج کے لوگ محفوظ رہے اور کوئٹہ کی آبادی میں سے دس ہزار لوگ بچے اب اگر یہ سمجھ لیں کہ دس ہزار چھاؤنی میں سے اور دس ہزار کوئٹہ شہر میں سے بچے تو اندازہ یہ ہے کہ صرف کوئٹہ کا چونسٹھ ہزار آدمی اس زلزلہ سے ہلاک ہوا اگر ہم چار ہزار کی تعداد اس میں سے اور بھی کم کر دیں تو بھی کوئٹہ میں ساٹھ ہزار موتوں کا اندازہ ہے مگر یہ زلزلہ صرف کوئٹہ میں ہی نہیں آیا بلکہ تمیں چالیس میل کے حلقہ یا اس سے بھی زیادہ حصے میں آیا اور کئی اور شہر اور دیہات بھی برباد ہو گئے بلکہ بعض بستیوں کی بستیاں اس طرح نیست و نابود ہو گئیں جس طرح کوئٹہ نابود ہو گیا۔قلات ، مستونگ اور بعض دوسرے شہروں کے متعلق بھی لکھا ہے کہ ان میں کئی ہزار اموات ہوئیں اور اگر کوئٹہ کے ہلاک شدگان کی فہرست میں اس ہلاکت کو بھی شامل کر لیا جائے تو موتوں کی تعداد بہت زیادہ ہو جاتی ہے سارے بلوچستان کی آبادی ساڑھے تین لاکھ ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ بقیہ علاقوں میں اتنی