خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 297

خطبات محمود ۲۹۷ سال ۱۹۳۵ء شروع ہو جاتا کسی ناظر کو میرے ساتھ ملاقات کا موقع نہ مل سکے گا ، میں نہ ان سے ملوں گا اور نہ بات چیت کروں گا جب تک کام شروع نہ ہو جائے اور جب تک وہ اپنے اس طریق کو نہ بدلیں۔اس کے بعد میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ میں نے متواتر دوستوں کو سمجھایا ہے کہ مؤمن کے اخلاق بہت زیادہ قیمتی اور اعلیٰ ہوتے ہیں اسے دوسروں سے امتیاز اسی بات میں ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ سے اس کا جو تعلق ہوتا ہے وہ تو دشمن کو نظر ہی نہیں آ سکتا نظر آنے والی چیز اخلاق ہی ہوتے ہیں اور اگر اخلاقی لحاظ سے کوئی کمزوری سرزد ہو تو منافقوں کو الگ اور مخالفوں کو الگ اعتراض کا موقع ملتا ہے۔منافق خود بدترین اخلاق کا ہوتا ہے اُسے ذرا چھیڑ کر دیکھو گندی سے گندی گالیاں دینے لگ جائے گا لیکن دوسروں پر اعتراض بھی وہی سب سے زیادہ کرے گا اس کے اپنے اخلاق اس قدر گندے ہوں گے کہ شرم آئے گی۔اسے اگر ذرا چھیڑو تو فوراً اس کے منہ میں جھاگ آنے لگے گی۔یا طنزیه گفتگو کرنے لگے گا یا بدظنی کرنے لگے گا لیکن جب کسی مؤمن میں کوئی کمزوری دیکھے گا تو فوراً ناصح بن جائے گا کہ دیکھو ہماری جماعت کے اخلاق کیسے گندے ہو گئے ہیں ہمیں بہت اعلیٰ اخلاق دکھانے چاہئیں وہ الفاظ ایسے ہی استعمال کرے گا جو بہت خوشنما ہوں مثلاً کہے گا خلیفتہ المسیح الثانی بار بار نصیحت کرتے رہتے ہیں کہ اخلاق بلند ہونے چاہئیں۔مگر اصلی منشاء اس کا یہی ہو گا کہ دیکھا میں نے بھی بدلہ لے لیا اور تم پر بھی اعتراض کر ہی دیا۔پس مؤمن کے اخلاق میں کمزوری آنے کی صورت میں مخالف الگ اعتراض کرتے ہیں اور منافق الگ، اور ان سب سے بالا اللہ تعالیٰ کا اعتراض بھی ہے۔غیر تو جو کچھ کہے انسان برداشت کر سکتا ہے لیکن اپنا اور پھر محبوب جو اعتراض کرے وہ نا قابل برداشت ہوتا ہے۔پس میں نے جماعت کے دوستوں کو متواتر تو جہ دلائی ہے کہ ان ایام ابتلاء میں وہ لوگوں کی گالیوں کی پرواہ نہ کریں۔گالیاں انسان کے اپنے اخلاق کو ظاہر کرتی ہیں جسے گالیاں دی جائیں اس کا ان سے کچھ نہیں بگڑتا۔جتنی کوئی شخص زیادہ گالیاں دے گا اتنا ہی اس کا گند زیادہ ظاہر ہوگا۔ہمیں صرف یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ جس بات پر اعتراض کرتا ہے اگر وہ واقعی ہم میں ہے تو اپنی اصلاح کریں اور اگر نہیں تو پھر غصہ کی کیا بات ہے وہ خود جھوٹ بولتا، اپنی عاقبت بگاڑتا اور انجام خراب کرتا ہے ہمارا اس میں کیا نقصان ہے۔میں سمجھتا ہوں یہ بڑا نازک مرحلہ ہے یہ نہیں کہ میں اس بات کو معمولی ظاہر کرنا چاہتا ہوں اور میرا مطلب یہ ہے کہ غیرت نہیں ہونی