خطبات محمود (جلد 16) — Page 284
خطبات محمود ۲۸۴ سال ۱۹۳۵ء نمائندے ہیں بالکل آسان ہے مگر یہ تو بتائیں کہ ان میں سے کتنے آدمیوں نے اس اعلان کے خلاف آواز اٹھائی ہے جو حال ہی میں احمدیوں اور احراریوں کے متعلق بعض معززین کی طرف سے شائع ہوا ہے۔اسمبلی کے نو دس نمائندوں نے جس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے ایک تہائی حصہ نے اس اعلان میں حصہ لیا ہے ممکن ہے اگر مزید موقع ملتا تو اور ممبر بھی اس اعلان میں شامل ہو جاتے ، کونسل آف سٹیٹ کے ممبر بھی شریک ہیں ، اسمبلی کے قریباً تمام سندھی نمائندوں نے اس اعلان پر دستخط کئے ہیں اور اس طرح سندھ کا سارا صوبہ نکل جاتا ہے ، پھر بہار کے اکثر نمائندوں نے اس پر دستخط کئے ہیں پس صوبہ بہار بھی نکل گیا ، اسی طرح بنگال کے بھی اکثر نمائندوں نے اس پر دستخط کئے ہیں پس صوبہ بنگال بھی آٹھ کروڑ مسلمانوں میں سے نکل گیا۔پنجاب کے ممبران کی بھی ایک معقول تعداد نے اس پر دستخط کئے ہیں پس وہ تعداد بھی ان مسلمانانِ ہند میں سے نکل گئی جن کی نمائندگی کا احرار کو دعویٰ ہے۔بنگال میں مسلمان تین کروڑ کے قریب ہیں ، بہار میں شاید تمیں لاکھ کے قریب ہیں ، پنجاب کا تہائی حصہ لے لیا جائے تو چالیس لاکھ بن جاتا ہے پھر سندھ کے تئیں لاکھ مسلمان لے لئے جائیں تو نصف کے قریب مسلمانوں کی تعداد ایسی نکل جاتی ہے جو احرار کی ہمنوا نہیں بلکہ ان کے خلاف ہے۔پس تین چار کروڑ مسلمانانِ ہند کے نمائندے جب اپنے دستخطوں سے ان میں سے نکل گئے تو پھر یہ نمائندے کس کے ہیں؟ باقی چار کروڑ جو ہیں ان کے متعلق بھی یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ احراری ان کے نمائندہ ہیں۔آخر ملک نے جن بہترین دماغوں کو اپنا نمائندہ چن کر بھیجا ہے، انہی کی رائے کو وقعت دی جاسکتی ہے نہ کہ ان کی رائے کو جن کی نمائندگی کے دعوی کو کوئی تسلیم کرنے کے لئے تیار ہی نہیں۔غرض آٹھ کروڑ مسلمانوں میں سے جن کی نمائندگی کا احرار کو دعوی ہے قریباً نصف ملک کے نمائندوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان فسادات کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو احرار نے پیدا کر رکھے ہیں۔پس جب چار کروڑ مسلمانوں کے نمائندے اعلان کرتے ہیں کہ وہ احرار کی فتنہ پردازیوں سے بیزار ہیں اور چار کروڑ خاموش ہیں تو پھر انہیں چوہدری کس نے بنایا ہے۔یہ آپ ہی آپ آٹھ کروڑ مسلمانوں کے نمائندہ بنے پھرتے ہیں۔آٹھ کروڑ تو الگ رہے یہ پنجاب کے سارے مسلمانوں کا ہی اپنے آپ کو نمائندہ ثابت کر دکھائیں تو بات ہے۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے اعزاز میں پچھلے دنوں لا ہور میں جو دعوت دی گئی اس میں پنجاب کے نمائندگان کا ۸۰ فیصدی حصہ شامل تھا گویا پنجاب