خطبات محمود (جلد 16) — Page 281
خطبات محمود ۲۸۱ ۱۷ سال ۱۹۳۵ء احراریوں کی مسلمانوں کو تباہ کرنے والی حرکات (فرموده ۲۶ را پریل ۱۹۳۵ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : جب کسی قوم کے بُرے دن آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے بڑے لوگوں کی سمجھ مار دیتا ہے اور وہ ایسی حرکات کرنے لگ جاتے ہیں جو خود ان کی تباہی کا موجب ہو جاتیں اور ان کی قوم کے لئے مہلک ثابت ہوتی ہیں ۔ میں دیکھتا ہوں کہ پچھلے ایام سے مسلمانوں میں سے ایک حصہ کے سرداروں کی یہی حالت ہو رہی ہے میں یہ جانتا ہوں کہ وہ سب مسلمانوں کے سردار نہیں اور نہ سارے ہندوستان کے مسلمانوں سے تعلق رکھتے ہیں ان کا زیادہ زور پنجاب میں ہے یا پنجاب کے قریب کے علاقوں میں باقی سارا ہندوستان ان کے زہریلے اثرات سے پاک اور بہت حد تک بچا ہوا ہے پھر پنجاب اور اس کے گردونواح کے سب مسلمان ان سے متاثر نہیں بلکہ زیادہ تر شہری حصہ متاثر ہے اور شہروں میں سے بھی لاہور اور امرتسر کا وہ حصہ متاثر ہے جو متواتر لڑائیوں اور جھگڑوں کی وجہ سے فتنہ وفساد کا عادی ہو چکا ہے ۔ انسانی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ جو کام وہ ایک دو دفعہ کرے اس کی توجہ بار بار اسی کی طرف لوٹتی ہے اس وجہ سے وہ لوگ جو لڑائی جھگڑے کی عادت ڈال لیں جلدی غصہ میں آ جاتے اور فتنہ و فساد کی طرف مائل ہو جاتے ہیں ۔ چونکہ پچھلے ایام میں سیاسی اختلاف کی وجہ سے چند شہروں کے لوگوں میں بے چینی پیدا ہو گئی تھی اور ان کے قلوب کا اطمینان جاتا رہا تھا اس لئے ان شہروں کے باشندوں کا ایک حصہ خواہ وہ مسلمانوں پر مشتمل ہو یا ہندوؤں ، سکھوں اور عیسائیوں پر ، اپنا