خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 279

خطبات محمود ۲۷۹ سال ۱۹۳۵ء کمروں میں لڑکا لیں تا کہ ہر وقت سکیم انہیں یاد رہ سکے مجھے یقین ہے کہ اگر جماعت اس تحریک پر عمل کرے تو یہ اس کے لئے بہت بابرکت ہو گا تحریک کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ ہر شخص اپنا روپیہ امانت فنڈ میں جمع کرائے بہت سے دوست ایسا کر رہے ہیں مگر بعض نہیں بھی کرتے حالانکہ اگر کوئی دس میں سے ایک روپیہ بھی ہر مہینے جمع کرادے تو یہ اس کے لئے مفید ہوگا اور ایسے کام درمیان میں نکل سکتے ہیں جن کے ماتحت اس کا تھوڑا سا روپیہ بھی بہت بڑی آمد کا ذریعہ بن جائے۔ غرض ۲۶ رمئی کی نسبت میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اس دن تمام جماعت کو چاہئے کہ وہ جلسے کرے اور جس طرح عید کے دن مرد اور عورتیں اکٹھی ہوتی ہیں اسی طرح اس دن جمع ہو کر تحریک جدید کے ہر حصہ پر تقریریں کی جائیں اگر کسی جماعت کے افراد تھوڑے ہوں تو ان میں سے ایک ایک شخص تحریک کے دو دو چار چار حصوں پر تقریریں کر سکتا ہے اور اگر زیادہ ہوں تو ایک ایک حصہ پر علیحدہ علیحدہ ہر شخص لیکچر دے سکتا ہے یہ ضروری نہیں کہ وہی دلائل دیئے جائیں جو میں بیان کر چکا ہوں بلکہ اگر کوئی شخص اس کے علاوہ دلائل رکھتا ہو تو وہ بھی بیان کئے جاسکتے ہیں ۔ اسی طرح ہر مہینہ میں ایک خطبہ جمعہ جماعت کے سامنے تحریک جدید کے متعلق پڑھا جائے اور کسی میں جماعت میں صلح و محبت پیدا کرنے کی کوشش کی جائے، کسی میں نمازوں کی پابندی کی تاکید کی جائے، کسی میں چندوں کی ادائیگی کی طرف متوجہ کیا جائے اور کسی میں جماعت کو تقویٰ اور طہارت پیدا کرنے کی نصیحت کی جائے ۔ کئی لوگ ایسے ہوا کرتے ہیں جو اپنے آدمیوں سے بات عمدگی سے سمجھ سکتے ہیں اس لئے وہ اس طریق سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں پھر کئی ایسے ہوتے ہیں جو سلسلہ کی اخبار میں نہیں پڑھتے اور اس طرح انہیں پورا علم نہیں ہوتا غرض ہر مہینہ میں اگر ایک خطبہ جمعہ اس تحریک کے متعلق پڑھا جائے اور اپنی زندگیوں کو خدمت دین کے لئے وقف کر کے تبلیغ کی جائے تو میں سمجھتا ہوں اگر جماعت تعہد سے اس پر عمل کرے تو جن فتن کو دور کرنے کے لئے میں نے سکیم بنائی ہے وہ فتن خدا تعالیٰ کے فضل سے دور ہو جائیں اور چھ سات ماہ کے بعد ہی ایک نیا رنگ دنیا میں پیدا ہو جائے ۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا