خطبات محمود (جلد 16) — Page 268
خطبات محمود ۲۶۸ سال ۱۹۳۵ء لئے مناسب سمجھا جاتا ہے کہ اسے کام کرنے کا موقع دیا جائے لیکن اگر اس لحاظ سے کوئی مقرر کیا جائے کہ صوبہ سرحد میں سرحدی ہونا چاہئے اور بنگال میں بنگالی ہونا چاہئے تو میں اس کا شدید مخالف ہوں گا لیکن اگر اس لحاظ سے ایک سرحدی کو صوبہ سرحد میں اور ایک بنگالی کو صوبہ بنگال میں کوئی عہدہ دیا جائے کہ وہ اپنے صوبہ میں ہم سے بہتر کام کر سکتا ہے تو یہ جائز ہوگا پنجابیوں میں سے بھی آخر ہر ایک کو امیر یا جماعت کا پریذیڈنٹ نہیں بنایا جاتا بلکہ قابلیت دیکھی جاتی ہے پھر اس میں کیا شبہ ہے کہ بنگال کا آدمی ایک پنجابی کی نسبت اپنے صوبہ میں کام کرنے کے لحاظ سے زیادہ قابل ہوگا وہ لوگوں تک بخوبی باتیں پہنچا سکتا ہے پھر عادات کا فرق بھی ہوتا ہے جس کا طبائع پر بھاری اثر پڑتا ہے۔انسان بعض دفعہ ایک طرز کے آدمی سے بات زیادہ جلدی سمجھ لیتا ہے مگر دوسری طرز کے آدمی سے بات جلدی سمجھ نہیں سکتا۔پس اس لئے کہ قدرت نے اس کو قابلیت زیادہ دی ہے میں سمجھتا ہوں کہ وہ وہاں کے لوگوں کا زیادہ عمدگی سے نگران بن سکتا ہے لیکن صرف اسی نقطہ نگاہ سے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔اور اگر اس لحاظ سے سوال اٹھایا جائے کہ چونکہ سرحدی صوبہ ہے اس لئے وہاں ضرور ایک سرحد کا رہنے والا مقرر کرنا چاہئے۔یا بنگال میں بہر صورت بنگالی مقرر کرنا چاہئے تو میں اس کو سخت نا پسند کروں گا بلکہ یہ زیادہ پسند کروں گا کہ وہ جماعت ٹوٹ جائے یہ نسبت اس کے کہ وہ جماعت رہ جائے پس اس موقع پر جبکہ چاروں طرف سے ہماری جماعت کے نمائندگان آئے ہوئے ہیں میں انہیں بتا تا ہوں کہ ہمارے لئے اب نہایت ہی نازک وقت ہے جب تک تم اپنی زندگیوں کو تبدیل نہیں کرو گے، جب تک تم ایک نئی پیدائش حاصل نہیں کرو گے اس وقت تک کامیابی حاصل کرنا محال ہے۔مجھے بعض دفعہ حیرت آتی ہے کہ کیا انسانی دماغوں میں اتنا عظیم الشان فرق ہوتا ہے کہ کوئی شخص کچھ سمجھتا ہے اور کوئی کچھ ، جس نقطہ نگاہ سے میں اس وقت دنیا کو دیکھ رہا ہوں اس کے لحاظ سے مخالفت کا ایک دوزخ ہے جود نیا میں چل رہا ہے اس فتنہ کو مد نظر رکھتے ہوئے نہیں جو اس وقت احرار نے اٹھایا ہوا ہے بلکہ اس فتنہ کو مدنظر رکھتے ہوئے جس کو دور کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کیا گیا۔احراری تو اب ہماری مخالفت کیلئے اُٹھے ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آج سے کئی سال پہلے دنیا کے فتن دور کرنے کے لئے بھیجا میں حیران ہوں کہ ان بڑے فتنوں کو ہماری جماعت کیوں نہیں دیکھ سکتی۔اگر ہماری جماعت انہیں محسوس کر لے تو یہ سارے