خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 254

خطبات محمود ۲۵۴ سال ۱۹۳۵ء غرض یہ ہوگی کہ تم ان کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور اگر تم ان کی طرف متوجہ ہو گئے تو اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہ جاؤ گے اس لئے اپنے کام میں لگ جاؤ۔چنانچہ میں جب چلا تو میں نے دیکھا کہ نہایت اندھیرا اور گھنا جنگل تھا اور ڈر اور خوف کے بہت سے سامان جمع تھے اور جنگل بالکل سنسان تھا۔جب میں ایک خاص مقام پر پہنچا جو بہت ہی بھیا نک تھا تو بعض لوگ آئے اور مجھے تنگ کرنا شروع کیا تب مجھے معاً خیال آیا کہ فرشتہ نے مجھے کہا تھا کہ ” خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ کہتے ہوئے چلے جانا اس پر میں نے ذرا بلند آواز سے یہ فقرہ کہنا شروع کیا اور وہ لوگ چلے گئے۔اس کے بعد پھر پہلے سے بھی زیادہ خطرناک راستہ آیا اور پہلے سے بھی زیادہ بھیانک شکلیں نظر آنے لگیں حتی کہ بعض سر کئے ہوئے جن کے ساتھ دھڑ نہ تھے ہوا میں معلق میرے سامنے آتے اور طرح طرح کی شکلیں بناتے اور منہ چڑاتے اور چھیڑتے۔مجھے غصہ آتا لیکن معافرشتہ کی نصیحت یاد آ جاتی اور میں پہلے سے بھی بلند آواز سے خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ“ کہنے لگتا اور پھر وہ نظارہ بدل جاتا یہاں تک کہ سب بلائیں دور ہوگئیں اور میں منزل مقصود پر خیریت سے پہنچ گیا۔یہ رویا میں نے ۱۹۱۳ء کے اگست یا ستمبر میں بمقام شملہ دیکھا تھا۔اور شملہ میں یہ خواب دیکھنے کا شاید یہ بھی مطلب ہو کہ حکومت کے بعض ارکان کی طرف سے بھی ہماری مخالفت ہو گی۔اس رؤیا کو آج کچھ ماہ کم بائیس سال ہو گئے ہیں اسی دن سے جب میں کوئی مضمون لکھتا ہوں تو اس کے اوپر خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ضرور لکھتا ہوں۔تو اللہ تعالیٰ نے ہم کو بتایا ہے کہ تمہارے سامنے ایک مقصد ہے اسے پورا کرو۔دشمن پورا زور لگائیں گے کہ تم دوسرے کاموں کی طرف متوجہ ہو جاؤ لیکن اگر ہم ایسا کریں تو ہمارا جو اصل کام ہے وہ نہیں ہو سکے گا۔اگر ہم لڑائیاں کرنے لگیں، مقدمہ بازیاں کریں تو تبلیغ کس طرح کر سکیں گے۔ایک اُٹھتا ہے اور گالیاں دینے لگتا ہے اور ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ میرا مقصد یہ ہے کہ آؤ اور مجھ پر مقدمہ کرو، پھر دوسرا اُٹھتا ہے اور اسی طرح کرنے لگتا ہے اگر میں ایسا کرنے لگ جاؤں تو پھر میرا جو کام ہے وہ کون کرے گا ان کی تو غرض ہی یہی ہے مگر ہمارا فرض یہ ہے کہ وہ بے شک گالیاں دیں ، منہ چڑا ئیں مگر ہم اپنا کام کرتے جائیں۔وہ ہمیں بے شک دنیا کی نظروں سے گرانے کی کوشش کریں لیکن اگر ہم اس رستہ پر چلتے جائیں جو کامیابی کا رستہ ہے تو ان کے چڑانے کا کیا نتیجہ ہو سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا