خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 253

خطبات محمود ۲۵۳ سال ۱۹۳۵ء تو میں احمدی کی بات کو ضرور سچ مانوں گا اور اسے زیادہ وزن دوں گا اس کی وجہ چاہے یہ سمجھ لو کہ میں ہمیشہ سچ کی تعلیم دیتا ہوں اور اس وجہ سے احمدیوں سے اسی کے مطابق عمل کرنے کی امید رکھتا ہوں۔یا یہ کہ مجھے احمدیوں کے ساتھ دوسروں سے زیادہ اُلفت ہے۔اور یا یہ کہ اس احمدی کے ساتھ مجھے کام کرنے کا موقع مل چکا ہو اور اس طرح معلوم ہو چکا ہو کہ اس کے اندر سچائی زیادہ ہے۔بہر حال وجہ خواہ کچھ ہو یہ قدرتی بات ہے کہ میں احمدی کو زیادہ سچا سمجھوں گا سوائے اس کے کہ میں قاضی کی حیثیت میں بیٹھا ہوں۔یا اس احمدی کے کیریکٹر کی کمزوری اور غیر احمدی کی راست گفتاری کا مجھے پہلے سے تجربہ ہو چکا ہو۔ہندوؤں ،سکھوں ، عیسائیوں ، غیر احمد یوں غرضیکہ سب قوموں میں سچ بولنے والے لوگ ہوتے ہیں اور احمدیوں میں بھی بعض ایسے کمزور ہو سکتے ہیں جو کسی وقت جھوٹ بول دیں۔پس اس کمزوری کو جو سب انسانوں میں پائی جاتی ہے حکومت کے معاملہ میں ہم نظر انداز نہیں کر سکتے اور اتنی ڈھیل ہمیں دینی پڑے گی جب تک کہ یقین نہ ہو جائے کہ عمد ابد دیانتی کی جارہی ہے۔عام حالات میں یہ سمجھنا پڑے گا کہ جو حال ہمارا ہے وہی حکومت کا بھی ہوسکتا ہے۔پس ان حالات میں جو اصل علاج ہے وہ یہی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف زیادہ توجہ کر یں دلوں کا حال سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا جسے میں سچا سمجھتا ہوں بالکل ممکن ہے اس نے ہیں دفعہ سچ بولا ہو اور اکیسویں دفعہ جھوٹ بول دے اور حکومت جسے سچا سمجھتی ہے اور جس کا سچا ہونا میں دفعہ اس پر ظاہر ہو چکا ہے ہوسکتا ہے کہ وہ اکیسویں بار جھوٹ بول دے اور اس وجہ سے چونکہ کسی بات کو یقینی اور قطعی نہیں کہ سکتے اس لئے جن حکومتوں کی بنیاد سیاسیات پر ہوتی ہے ان کے لئے بہت سی دقتیں ہوتی ہیں جن کا اندازہ ہم نہیں کر سکتے پس حقیقی کامیابی کا رستہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی مل سکتا ہے۔آج سے بائیس سال قبل غالباً اگست یا ستمبر کا مہینہ تھا جب میں شملہ گیا ہوا تھا تو میں نے رویا دیکھا کہ میں ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی پر جانا چاہتا ہوں۔ایک فرشتہ آیا اور مجھ سے کہنے لگا کہ تمہیں پتہ ہے یہ رستہ بڑا خطرناک ہے اس میں بڑے مصائب اور ڈراؤنے نظارے ہیں ایسا نہ ہو تم ان سے متاثر ہو جاؤ اور منزل پر پہنچنے سے رہ جاؤ اور پھر کہا کہ میں تمہیں ایسا طریق بتاؤں جس سے تم محفوظ رہو میں نے کہا ہاں بتاؤ۔اس پر اس نے کہا کہ بہت سے بھیا نک نظارے ہوں گے مگر تم ادھر اُدھر نہ دیکھنا اور نہ ان کی طرف متوجہ ہونا بلکہ تم ” خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ“ کہتے ہوئے سید ھے چلے جانا ان کی