خطبات محمود (جلد 16) — Page 252
خطبات محمود ۲۵۲ سال ۱۹۳۵ء عداوت ہو تو ہو ورنہ انہیں ہمارے جھگڑوں سے کیا واسطہ ہے۔پس سوائے خاص حالت کے ہمارا فرض ہے کہ حسنِ ظنی سے کام لیں۔اکثر واقعات جو ضلع گورداسپور میں ہوتے ہیں ان کی طرف اگر بالا افسر تو جہ نہیں کرتے تو اس کی یہ وجہ نہیں کہ وہ ہمیں دکھ دینا چاہتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ان پر حقیقت حال ظاہر نہیں ہوئی۔فطرتی طور پر انسان اپنے ساتھ کام کرنے والوں کی بات زیادہ مانتا ہے۔دو بچے آپس میں لڑتے ہیں اور روتے ہوئے اپنی اپنی ماں کے پاس جاتے ہیں ہر ایک کی ماں اپنے بچے کو گلے سے چمٹا لیتی ہے اور دوسرے کے بچے کے متعلق کہتی ہے کہ وہ بڑا نالائق ہے کئی دفعہ سمجھایا ہے کہ دوسرے بچوں کو نہ مارا کرے مگر وہ باز نہیں آتا۔تو یہ فطرتی بات ہے کہ انسان پر پہلا اثر پاس رہنے والوں کا ہوتا ہے جب ایک احمدی ہمارے سامنے آ کر ایک بات کہے تو ہم ضروری طور پر اسے درست سمجھیں گے سوائے اس کے کہ بات کرنے والے کا جھوٹ ظاہر ہو چکا ہو اور جب ہمارے لئے یہ ایک فطرتی بات ہے تو حکومت کے متعلق بھی ہمیں ایسا ہی سمجھنا چاہئے۔حکومت کے لئے بھی یہ طبعی امر ہے کہ وہ سپاہی ، مجسٹریٹ یا ڈپٹی کمشنر کی رپورٹ کو سچا سمجھے، ایسا کرنا انسان کا ایک طبعی میلان ہے اور فطرت کا ایک ایسا تقاضا ہے جس کا شکار قریباً ہر انسان کو ہونا پڑتا ہے۔دنیا میں بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اس اثر سے بالا ہوتے ہیں ورنہ بالعموم سب اس اثر کے ماتحت ہوتے ہیں اور گورنمنٹ بھی اس سے بال نہیں ہو سکتی اس لئے جب تک اس کے خلاف کوئی قطعی ثبوت نہ ہو ہمیں یہی سمجھنا چاہئے کہ حکومت کے بالا افسر بھی اس انسانی کمزوری کا شکار ہیں جس کا ہم بھی ہوتے ہیں اور شرارت سے ہمیں نقصان نہیں پہنچار ہے۔اگر کوئی احمدی میرے سامنے آ کر کوئی بات کہے تو میں اسے سچ سمجھ لوں گا ہاں اگر بعد میں وہ جھوٹ ثابت ہو جائے تو یہ اور بات ہے اور جو اثر ہم اپنی طبیعتوں پر محسوس کرتے ہیں وہی دوسروں کے متعلق سمجھنا چاہئے۔شکایت کا موقع اُس وقت ہوتا ہے جب حق کھل جائے اور پھر بھی ضد کی جائے ورنہ یہ انسان کا طبعی تقاضا ہے کہ وہ اپنے ساتھ کام کر نیوالوں کی بات زیادہ مانتا ہے۔مجھے اپنی اس کمزوری کا اعتراف ہے کہ باوجود انصاف کی پوری خواہش کے سوائے قضاء کے وقت کے کہ اُس وقت میں بالکل خالی الذہن ہوتا ہوں، اگر دو شخص آکر میرے پاس کوئی روایت کریں ایک احمدی اور دوسرا غیر احمدی