خطبات محمود (جلد 16) — Page 240
خطبات محمود ۲۳ ۔ بشیر علی ۱۶ سال نہم ہائی سکول ۲۴۔ عبدالرشید ۱۵ سال پنجم احمد یہ سکول ۲۵ - منور حسین ۱۵ سال ششم ہائی سکول ۲۶ ۔ بشارت احمد ۱۱ سال پنجم ہائی سکول ۲۷۔ ہادی ۱۱ سال چہارم ہائی سکول الد ۔ سال ۱۹۳۵ء ۲۸۔ محمد یعقوب کو کب سیکرٹری یہ ۲۷ لڑ کے علاوہ سیکرٹری کے ہیں گویا گل مل کر ۲۸ ہو گئے اور انہوں نے ایک انجمن حزب اللہ بنائی ہوئی ہے جس میں وفات مسیح علیہ السلام اور صداقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر تقریریں ہوتی ہیں ۔ یہ ممبر سب چھوٹے بچے ہیں جو اور انجمنوں میں جا کر تقریریں کرنے سے شرماتے ہیں جیسا کہ چھوٹے بچے ہمیشہ شرما یا ہی کرتے ہیں ۔ پرسوں ان کا اجلاس تھا سیکرٹری کا بیان ہے کہ پہلے ایک پولیس انسپکٹر یا سب انسپکٹر وہاں پہنچے اور کہا کہ ہمیں اندر آنے کی اجازت دی جائے ۔ میں نے ان سے کہا کہ یہاں تو چھوٹے چھوٹے بچے تقریریں کریں گے وہ تو اپنے رشتہ داروں کے سامنے تقریر کرتے ہوئے بھی شرماتے ہیں اور اسی وجہ سے الگ ایک مکان میں ہم جلسہ کرتے ہیں اگر پولیس کے لوگ وردیاں پہن کر آ گئے تو ان کے تو ہوش اُڑ جائیں گے۔ سب کے سب طالب علم ہوتے ہیں ہاں کبھی کسی مدرس کو صدر بنا لیتے ہیں آپ کے آنے پر لازمی بات ہے کہ ان سے بولا نہیں جائے گا۔ اس پر انہوں نے ایک حکم نکال کر دکھایا کہ یہ سرکاری حکم ہے ۔ سیکرٹری کہتا ہے کہ اس پر میں نے ان سے کہا کہ آپ ہمارے محلہ کے پریزیڈنٹ سے کہیں اگر انہوں نے کہا تو ہم اجازت دے دیں گے چنانچہ وہ صدر کے پاس گئے اور حکم ان کو دکھایا یہ حکم مجسٹریٹ علاقہ کی طرف سے تھا اور اسی ایکٹ کے ماتحت جس کی preamble میں لکھا ہے کہ حکومت لکھا ہے کہ حکومت کا تختہ اُلٹ دینے کے لئے جو انجمنیں بنائی جاتی ہیں یہ ان میں دخل دینے کے لئے ہے اور ظاہر ہے کہ دس سال کی عمر کے بچوں پر جو اپنے بھائیوں سے بھی تقریریں کرتے ہوئے شرماتے ہوں باور دی پولیس اور نمبردار پٹواریوں کو لے جانا اور اس کے لئے کریمینل لاءایمنڈ منٹ ایکٹ کو استعمال کرنا حکومت برطانیہ کی ڈیڑھ دو سو سالہ حکومت میں شاید پہلا واقعہ ہے ۔ یہ جلسہ چند ایک بچوں کا تھا جس میں وفات مسیح علیہ السلام اور صداقت مسیح موعود علیہ الصلواۃ