خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 234

خطبات محمود ۲۳۴ سال ۱۹۳۵ء جاسوسی نہ کرائیں مگر گورداسپور کے وہ افسران لوگوں کو بدستور ہفتہ میں دو بار ملاقات کا موقع دیں اور گھنٹوں ان سے سرگوشیاں کریں تو اسے ہم کیونکر انصاف کہہ سکتے ہیں ۔ آخر کیوں ان افسروں کو سزا نہیں دی جاتی جو باوجود اعلیٰ حکام کی ہدایات کے ان کارروائیوں سے باز نہیں آتے ۔ ہم سے کہا جاتا ہے کہ ہم نے اس طریق کو روک دیا اور حکام کو سمجھا دیا ہے کہ وہ اپنی روش میں تبدیلی کریں مگر وہاں برابر ممنوع لوگ جاتے ہمارے کاغذات چرائے جاتے اور ہمارے خلاف خفیہ اجلاس ہوتے رہتے ہیں حالانکہ ہم نے بارہا کہا ہے گورنمنٹ دلیری سے کہہ دے کہ اس قسم کے جھگڑوں کا تصفیہ کرنا قانون کے خلاف ہے آئندہ مت فیصلے کیا کر وہم نہیں کریں گے۔ آخر وجہ کیا ہے کہ وہ اس قسم کا اعلان نہیں کرتی جب ہم کہتے ہیں کہ جب تک ہم اس ملک میں رہیں گے گورنمنٹ کی اطاعت کریں گے اور مشکل سے مشکل وقت میں بھی اطاعت کا دامن اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے تو اس کے لئے اس قسم کے اعلان میں دقت ہی کیا ہے مگر ایسا اعلان بھی نہیں کیا جاتا اور برا بر ہمارے خلاف کا رروائیاں کی جا رہی ہیں جو ہمارے دلوں میں یہ شبہ پیدا کرتی ہیں کہ خفیہ طور پر ہمارے سلسلہ کے خلاف ریکارڈ جمع کیا جارہا ہے تا کہ الزام بھی لگ جائے اور ہم تردید بھی نہ کر سکیں ۔ انصاف تو یہ ہے کہ یا اس طریق کو بند کیا جائے یا نالش کر کے الزام ثابت کیا جائے ۔ اگر وہ یہ کہیں کہ نالش کر کے ہم پر الزام ثابت نہیں کیا جا سکتا تو وہ نالش نہ کریں یونہی کہہ دیں کہ ایسا نہ کرو ہم نہیں کریں گے مگر ادھر یہ جرأت نہ کرنا اور ہم پر مقدمہ نہ چلانا اور اُدھر یہ ہونا کہ خفیہ طور پر لوگ آ رہے ہیں اور مسلیں تیار ہو رہی ہیں ایسی بات ہے جسے کوئی شخص پسند نہیں کر سکتا بلکہ وہ لوگ جو اس وقت پنجاب کے اعلیٰ افسر ہیں اگر ان کے سامنے بھی یہ بات رکھی جائے تو وہ بھی اس بات کو کبھی پسند نہیں کریں گے اسی لئے میں اس خطبہ کے ذریعہ ایک طرف تو اپنی جماعت سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ چھوڑ دو ان اصطلاحات کو جن کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہماری ہیں اور ان کی نقلیں نہ کرو اور اُدھر گورنمنٹ کو توجہ دلاتا ہوں کہ جو طریق اس ضلع کے بعض افسروں نے اختیار کر رکھا ہے وہ اچھا نہیں ۔ ہم گورنمنٹ کا مقابلہ نہیں کرتے بلکہ مذہبی طور پر اس کی اطاعت ضروری سمجھتے ہیں ۔ اگر وہ سمجھتی ہے کہ ہمارا فلاں طریق صحیح نہیں تو علی الاعلان اس کا اظہار کر دے اور اگر اس کا منشاء ہمیں قید کرنا ہے تو مقدمہ چلائے اور ہمیں قید کرے مگر اس طریق کو رو کے جو اخلاقی طور پر نہایت ہی معیوب ہے ۔ یعنی ایک طرف تو مقدمہ نہ چلایا جائے اور نہ حکماً کسی