خطبات محمود (جلد 16) — Page 200
خطبات محمود ۲۰۰ سال ۱۹۳۵ء کو غلہ یا کپڑا دیتا ہے اور یہ اپنے ہاتھ کی طاقت اور دماغ کی محنت اسے دیتا ہے۔پس یہ بھی تجارت کرتا ہے مفت تو روٹی کوئی نہیں کھاتا۔پس دنیا کے جتنے ایسے کام ہیں جن میں انسان کو نفع حاصل ہوتا ہے وہ بیع ہیں خواہ پیشے ہوں خواہ تجارتیں ہوں ، خواہ زراعتیں ہوں، خواہ مزدوری اور نوکری ہو، اور خواہ بادشاہت ہو۔بادشاہ بھی اپنا وقت اور دماغ رعایا کو دیتا اور انہیں فائدہ پہنچاتا ہے پس فرمایا وَذَرُوا الْبَيْعَ تمام وہ کام جن میں دُنیوی نفع ہو تم انہیں چھوڑ دو اور جاؤ اور اس کی بات سنو ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ۔اگر تمہیں علم ہو تو تم سمجھو کہ یہ بات تمہارے لئے بہت زیادہ بہتر اور نتائج کے لحاظ سے بابرکت ہے اگر حماقت سے تم کہے جاؤ کہ کیوں ہم کسی شخص کی بات کو مانیں تو یہ اور بات ہے لیکن اگر علم کے ماتحت غور کرو گے تو تمہیں معلوم ہوگا کہ خدا تعالی کی آواز کا کسی زبان پر جاری ہونا کوئی معمولی بات نہیں اور نہ اس میں کسی چھوٹے بڑے کا کوئی سوال ہے بلکہ جس شخص کی زبان پر بھی خدا تعالیٰ کا کلام جاری ہوضروری ہے کہ اس کی اطاعت۔کی جائے۔یہ تو تمہید تھی اس کے بعد اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِى تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُ، مُلقِيْكُمْ کے ساتھ جوڑ ملتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَوةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللهِ وَاذْكُرُوا الله كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ایک چھوٹی موت تو وہ تھی جو ظا ہری جمعہ میں شامل ہونے پر ہر انسان کو برداشت کرنی پڑتی ہے یعنی وَذَرُوا الْبَيْعَ کے حکم کے مطابق اسے اپنی تجارتیں اور خرید وفروخت کے سامان تھوڑی دیر کے لئے چھوڑنے پڑتے اور نماز میں شامل ہونا پڑتا ہے مگر وہ نہایت ہی حقیر موت ہے اور اس سے بڑی موت یہ ہے کہ مسیح موعود کو قبول کرنے اور اس پر ایمان لانے کے لئے ہر انسان قربانی کرے کیونکہ جب مسیح موعود پر ایمان لایا جائے گا اس کا لازماً یہ نتیجہ نکلے گا کہ بعض دفعہ بیٹے کو باپ چھوڑنا پڑے گا اور باپ کو بیٹا ، خاوند بیوی سے الگ ہو جائے گا اور بیوی خاوند سے علیحدہ ، لوگ بُرا بھلا کہیں گے ظلم وستم کریں گے اور ماریں پیٹیں گے اور مجبور کریں گے کہ مسیح موعود سے علیحدہ ہو جائیں لیکن اگر یہ موت بھی جو پہلی موت سے بڑی ہے انسان کے راستہ میں روک نہ ہو تو اس کے بعد ایک اور موت ان کے سامنے رکھی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَوةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللهِ جمعہ کی نماز کے بعد تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اجازت ہے کہ