خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 172

خطبات محمود ۱۷۲ سال ۱۹۳۵ء اظہار حقیقت اور گالی میں فرق فرموده ۸ مارچ ۶۳۵) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ جمعہ کی درج ذیل آیات تلاوت فرمائیں ۔ قُلْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ هَادُوا إِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ اَوْلِيَاءُ لِلَّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِنْ كُنتُمْ صَدِقِينَ وَلَا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّلِمِينَ قُلْ إِنَّ الْمَوْتَ الَّذِي تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُ مُلقِيكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ اس کے بعد فرمایا :- پچھلی آیت میں اس بات کا ذکر تھا کہ محض خدا تعالیٰ کی کتاب کے حامل ہونے سے کچھ نہیں بنتا اور جب تک اس کے مطابق اپنی زندگیاں بسر نہ کی جائیں اس وقت تک صرف اُس کتاب کو اُٹھا لینا ایسا ہی ہے جیسے گدھے پر کتابیں لاد دی جائیں ۔ جس طرح قرآن مجید کے بھرے ہوئے بکس ایک گدھے کی پیٹھ پر لاد دینے سے وہ زیادہ عقلمند نہیں ہو جاتا اور نہ تو رات اور ان ہو جاتا اور نہ تو رات اور انجیل کے لادنے سے وہ زیادہ عقلمند سمجھا جاسکتا ہے ۔ اسی طرح اگر ایک ان پڑھ اور جاہل آدمی جو قرآن مجید کے مطالب کو نہیں سمجھتا اور نہیں سمجھنا چاہتا ، ہیں ، تمہیں یا چالیس قرآن مجید بھی اپنے سر پر اٹھا لے تو کیا اُس کے دل میں معرفت کا دریا پھوٹ سکتا ہے؟ معرفت کا دریا اس کے دل میں پھوٹے گا اور وہی شخص روحانیت سے حصہ پائے گا جس کے دل میں قرآن ہوگا اور جس کے سر میں قرآن ہو ، سر پر قرآن اُٹھا نا کام نہیں دیتا