خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 151

خطبات محمود ۱۵۱ سال ۱۹۳۵ء کی آواز کو کسی نے کانوں سے سنا ؟ جب کسی کے ہاں بیٹا پیدا ہوتا ہے اور وہ خوش ہوتا ہے تو کیا اس موقع پر اس کے کان میں خوشی کی آواز آیا کرتی ہے یا دل میں کیفیت پیدا ہو ا کرتی ہے؟ فرض کرو ایک ایسا شخص ہو جس کی شادی پر بیس برس گزر گئے ہوں اور اس کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی ہو، اکیسویں سال اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہو تو کیا اس خوشی کے موقع پر اس کے کانوں میں یہ آواز آیا کرتی ہے کہ میرے ہاں لڑکا پیدا ہوا یہ بہت اچھی بات ہے۔یا خوشی کی خبر سنتے ہی معا اس کی قلبی کیفیات بدل جاتی ہیں۔اسی طرح جب کسی کا اکلوتا بیٹا مر جاتا ہے تو کیا اس وقت اُس کے کانوں میں یہ آواز آیا کرتی ہے کہ میرا اکلوتا بچہ مر گیا ، یہ بڑی بڑی بات ہوئی ؟ یا معا اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے اور دل میں انقباض سا پیدا ہو جاتا ہے پس خوشی اور رنج کی آوازوں کو آج تک کسی نے اپنے کانوں سے نہیں سنا بلکہ خوشی کی آواز تمہارے دل میں پیدا ہوتی ہے اور رنج کی آواز تمہارے دل میں پیدا ہوتی ہے اسی طرح وفا کے جذبات انسان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں اور باوجود اس کے کہ ہم رنج ، خوشی اور وفا کے جذبات کو محسوس کرتے ہیں پھر بھی ہمارے کانوں میں ان چیزوں کی آواز میں نہیں آتیں بلکہ دل ان کی آوازوں کو محسوس کرتا ہے۔اسی طرح ماں بعض دفعہ اپنے بچے کی طرف جبکہ وہ دیکھتی ہے کہ وہ کنویں میں گرنے لگا ہے بے اختیار دوڑ پڑتی ہے حالانکہ اُس وقت بچہ اُسے بُلا نہیں رہا ہوتا اور نہ اُس کے کانوں میں بلانے کی آواز آتی ہے مگر باوجود اس کے وہ دوڑ پڑتی ہے کیونکہ اس آواز کو اس کا دل محسوس کرتا ہے۔پس ساری آوازیں کانوں سے ہی نہیں سنی جاتیں بلکہ دل سے بھی سنی جاتی ہیں۔کوئلہ جب گرم ہو تو کیا اُس وقت خود کہا کرتا ہے کہ میں گرم ہو گیا یا پاس بیٹھنے والا خود بخود محسوس کر لیتا ہے کہ اب یہ گرم ہو گیا تم کوئلہ کے پاس بیٹھو تمہیں خود بخود یہ آواز آنی شروع ہو جائے گی کہ اب میں گرم ہو گیا۔یہی تسبیح کے معنی ہیں۔زمین و آسمان کے ذرہ ذرہ میں تسبیح پائی جاتی ہے جو لوگ اس تسبیح کو سمجھنے اور محسوس کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ، وہ اس تسبیح کو محسوس کرتے ہیں مگر جو بے ہوش یا فالج زدہ ہیں وہ ان کی تسبیح نہیں سن سکتے۔ایک فالج زدہ آدمی کو آگ کے پاس بٹھا دو پھر بھی وہ اس کی گرمی کو محسوس نہیں کرے گا اور نہ اسے آگ میں سے یہ آواز آئے گی کہ میں گرم ہو گئی۔اسی طرح بے ہوش آدمی کے کان میں جا کر کہو کہ تیرے گھر لڑکا پیدا ہوا تو اس کے دل میں کوئی خوشی کی کیفیت پیدا نہیں ہوگی۔