خطبات محمود (جلد 16) — Page 145
خطبات محمود الده سال ۱۹۳۵ء کے بغیر کب پاک ہو سکتے ہیں ، اسی طرح جب ہم اس کے عزیز ہونے کو دیکھتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ اگر خدا ہمیں سہارا نہ دے تو ہم کچھ بھی نہیں ، پھر جب ہم خدا تعالیٰ کی حکمت کو دنیا کے ذرہ ذرہ میں دیکھتے ہیں تو ہم کہتے ہیں ہماری حکمت اس کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتی ہے ہم تو نادان ہیں مگر جب ہم رات کی تاریکی میں آتے ہیں تو ہمیں پتہ لگتا ہے کہ ہم نہ صرف خودروشن ہیں بلکہ اپنے ارد گر د کو بھی روشن کر رہے ہیں اور جو اس وقت ہماری روشنی کا انکار کرتا ہے ہم اسے نابینا اور اندھا کہتے ہیں ۔ جیسے سورج کے مقابل پر اگر کوئی شخص جگنو کی چمک نہ دیکھے تو یہ اس کی نابینائی کا ثبوت نہیں ہوتا ہاں اگر رات کو اسے جگنو چمکتے نظر نہ آئیں یا رات کو لیمپ جلتے دکھائی نہ دیں تو اسے نابینا کہا جاتا ہے اور لوگ کہتے ہیں میاں ! اپنی آنکھوں کا علاج کراؤ۔ یہی حال مؤمن کا ہوتا ہے جب وہ خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو کسی اور کی روشنی اسے نظر نہیں آتی مگر خدا جب اسے تاریکی میں کھڑا کرتا ہے تو اسے اپنی روشنی بھی نظر آنے لگتی ہے اور دوسروں کی بھی ۔ ہے۔ یہ وہ ایمان ہے جو خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے اندر پیدا کرے۔ اگر ہم میں سے ہر شخص باوجود اس کے کہ وہ دنیا کی نگاہوں میں ذلیل اور حقیر ہو یہ سمجھنے کے لئے تیار نہیں کہ وہ ملک ہے یا یہ تسلیم کرنے نے کے لئے تیار نہیں کہ وہ قدوس ہے تو یقیناً اس کے ایمان میں نقص میں نقص ہے ۔ اسی طرح اگر وہ دوسری دنیا کے مقابلہ میں ا قابلہ میں اپنے آپ کو عزیزیت کے مقام لو عزیزیت کے مقام پر فائز نہیں سمجھتا اور نمایاں طور پر اپنے ہر کام میں حکمت اختیار نہیں کرتا تو یہ بھی اس بات کا ثبوت ہوگا کہ اس کے ایمان میں نقص ہے اور اگر اس کے ملک ہونے کے باوجود قُدوس ہونے کے باوجود عزیز اور حکیم ہونے کے باوجود دنیا اسے نہیں دیکھتی تو یہ دنیا کی نابینائی کا ثبوت ہوگا ۔ مگر یہ نابینائی اُسی وقت کہی جاسکتی ہے جب دنیا کو کوئی ایک مؤمن بھی ملکیت ، قد وسیت ، عزیزیت اور حکیمیت کا مظہر نظر نہ آئے ۔ اگر زید اور بکر میں سے وہ زید کو ان صفات کا مظہر سمجھتی ہے اور بکر کو نہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ بکر میں نقص ہے نہ یہ کہ اس کی بینائی میں قصور ہے ۔ جیسے اگر کسی شخص کو اور لالٹینیں تو روشن نظر آئیں مگر ایک نظر نہ آئے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہو گا کہ اس کی آنکھیں اسے نہیں دیکھتیں بلکہ یہ مطلب ہوگا کہ وہ لالٹین اندھیری ہے ۔ پس یہ وہ مقام ہے جس کی مؤمن سے امید کی جاتی ہے اب تم میں سے ہر شخص اپنے دل میں