خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 118

خطبات محمود ۱۱۸ سال ۱۹۳۵ء لوگوں کے ساتھ احسان کرنا چاہتے ہیں پس ہم کس طرح مان لیں کہ ایسے بندوں کو خدا تعالی بر باد کرنے کے لئے تیار ہے ۔ جب ہم جانتے ہیں کہ ہمارے دلوں میں خدا کی محبت ہے ، جب ہم جانتے ہیں کہ ہمارے دلوں میں اس کے رسولوں کی محبت ہے جب ہم جانتے ہیں کہ ہمارے دلوں میں اس کے مسیح موعود کی محبت ہے جب ہم جانتے ہیں کہ ہمارے دلوں میں تمام نوع انسان کی محبت ہے اور ہم حکومت اور رعایا سب کی خیر خواہی چاہتے ہیں ، تو بے شک دنیا جو ہمارے حالات سے نا واقف ہے ہم سے دشمنی کر سکتی ہے مگر خدا ہمارا دشمن نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ عَالِمُ الْغَيْبِ ہے ۔ بالکل ممکن ہے حکومت ہماری دشمن ہو جائے ممکن ہے رعایا ہماری دشمن ہو جائے ممکن ہے چھوٹے بڑے سب ہمارے دشمن ہو جائیں مگر یہ ممکن نہیں کہ خدا ہماری جماعت کا دشمن ہو ۔ مجھے اگر لوگ آ کر یہ کہیں کہ ہندوستان کے تمام افراد آپ کو مارنا چاہتے ہیں تو ممکن ہے میں اس بات کو مان لوں لیکن اگر کوئی آ کر یہ کہے کہ خدا ہمیں مٹانا چاہتا ہے تو میں اس بات کو کبھی ماننے کے لئے تیار نہیں ۔ میں اپنے نفس کو جانتا ہوں اور میں یہ ہے؟ سمجھتا ہوں کہ سب سے زیادہ محبت اگر مجھے ہے تو خدا تعالیٰ سے ہے بلکہ بعض دفعہ مجھے رشک آجا جاتا تا۔ ہے اور میں کہتا ہوں کہ کیا نبیوں کے دل میں مجھ سے زیادہ خدا تعالیٰ کی محبت ہوتی ہے؟ پس میں اپنے دل کو جانتا ہوں اور میرا رب میرے دل کو جانتا ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جماعت کے لوگوں کے دلوں کی بھی یہی کیفیات ہیں ۔ گو بعض ان میں سے کمزور بھی ہوں مگر غالب اکثریت ایسی ہے جو خدا اور اُس کے رسول کی محبت میں سرشار ہے پھر میں کس طرح مان لوں کہ یہ سزا ہے جو ہمیں مل رہی ہے ہاں خدا پر توکل رکھو ، یقین رکھو اور اُس سے دعائیں کرو کہ وہ کامیابی کی گھڑی جلد تمہارے سامنے لائے ۔ اگر تم میرے اس وعظ کے نتیجہ میں اپنی اصلاح سے غافل ہو گئے تو یہ ایک بُرا نتیجہ ہو گا جس سے تمہیں بچنا چاہئے۔ میں نے تمہیں خدا تعالیٰ کی برکت کی خبر دی ہے اور جب خدا تعالیٰ کی برکت کی خبر سنائی جائے تو انسان کو پہلے سے بہت زیادہ پستی کے ساتھ نیکیوں پر عمل پیرا ہونا چاہئے ۔ حضرت صلى الله عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک دفعہ رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ يَا رَسُولَ اللهِ ! جب خدا تعالیٰ نے آپ کی اگلی پچھلی کمزور با کمزوریاں معاف کر دیں تو آپ اتنی عبادت کیوں کرتے ہیں کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے ہیں ؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اے عائشہ ! کیا اللہ تعالیٰ کے اس عظیم الشان احسان کے بدلہ میں میں اب شکر نہ کروں ۔ اے پس تمہیں بھی اس خطبہ کے نتیجہ میں اپنی اصلاح سے