خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 106

خطبات محمود 1+7 سال ۱۹۳۵ء جس نے ختم ہو جانا ہو اس لئے ہماری زندگی میں کوئی لحظہ بھی ایسا نہیں آسکتا جس میں ہم اپنی اصلاح سے بے نیاز ہو جائیں۔اسی مسجد میں میں ایک دفعہ نماز جمعہ کے بعد سلام پھیر کر بیٹھا ہی تھا کہ ایک اجنبی شخص آگے بڑھا اور کہنے لگا میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں میں نے کہا فرمائیے۔کہنے لگا اگر ہم ایک کشتی میں سوار ہوں اور وہ کنارے آلگے تو پھر ہم کیا کریں۔اس کا یہ سوال کرنا ہی تھا کہ معاً خدا تعالیٰ نے میرے دل میں اس کا تمام سوال ڈال دیا اور میں نے بجائے یہ جواب دینے کے کہ اگر کنارہ آ جائے تو اُتر پڑو یہ جواب دیا کہ اگر دریا محدود ہے تو اُتر جائے لیکن اگر غیر محدود دریا ہو تو پھر جہاں یہ کنارہ سمجھ کر اتر او ہیں ڈوبا۔اس شخص کا مطلب یہ تھا کہ جب انسان خدا تعالیٰ تک پہنچ جائے تو پھر نماز روزے کا کیا فائدہ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔یہ سوال کرنے والا معلوم ہوا مسلمانوں کے اس بد بخت فریقہ سے تعلق رکھتا تھا جس کا عقیدہ یہ ہے کہ نماز روزہ اسی وقت تک کے لئے ہے جب تک انسان خدا تعالیٰ تک نہ پہنچا ہو اور اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر میں کہہ دوں کہ کنارہ آنے پر انسان کو کشتی سے اتر جانا چاہئے تو وہ کہہ دے کہ آپ کو ابھی خدا نہیں ملا ہو گا اس لئے آپ کو نماز روزں کی ضرورت ہوگی۔مجھے تو نہیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے پہلے ہی یہ تمام باتیں سمجھا دیں اور میں نے جواب دیا کہ اگر در یا غیر محدود ہے تو پھر جہاں اترا ڈوبا۔پس ہمارا جس ہستی سے تعلق ہے وہ غیر محدود ہے اور اس کے قرب کے مراتب لا متناہی ہیں۔حتی کہ محمد ﷺ کی باکمال ذات کے لئے بھی ترقیات کی گنجائش ہے اور اگر کہا جائے کہ کوئی انسان ایسا بھی ہے کہ جس کے لئے اب ترقی کی گنجائش نہیں تو اس کا مطلب نَعُوذُ باللہ یہ ہوگا کہ وہ گویا خدا ہو گیا۔بعض نادان کہا کرتے ہیں کہ محدود اعمال کی غیر محدود جزا ء اللہ تعالیٰ کس طرح دے سکتا ہے۔میں ایسے لوگوں کو اکثر یہ جواب دیا کرتا ہوں کہ محدود اعمال کی غیر محدود جزاء اس لئے اللہ تعالیٰ دے گا کہ تا اس کی تو حید ثابت ہو۔اگر محدود اعمال کی محدود جزاء دے کر اللہ تعالیٰ اور ترقیات کے دروازے انسان پر بند کر دیتا تو انسان یہ کہ سکتا تھا کہ خدا مجھے اور ترقی دینے سے ڈر گیا اور اسے یہ خطرہ لاحق ہونے لگا کہ میں اس کی خدائی میں شریک نہ ہو جاؤں لیکن خدا نے کہا میں تمہیں غیر محدود جزاء دوں گا۔تم بڑھتے جاؤ ، بڑھتے جاؤ مگر پھر بھی دیکھو گے کہ خدا احد ہے اور کوئی اس کا شریک نہیں ہو سکتا پس توحید کامل انعام کامل کے بغیر ثابت ہی نہیں ہو سکتی۔جو مذاہب یہ کہا کرتے ہیں کہ اعمال کی جزاء محدود ہونی چاہئے وہ خدا تعالیٰ کی