خطبات محمود (جلد 16) — Page 94
خطبات محمود ۹۴ سال ۱۹۳۵ء یونہی اپنے نام نہ لکھوائیں بلکہ پہلے جو ایسے لوگ نام دے چکے ہیں وہ بھی واپس لے لیں۔ورنہ میں ان کے متعلق اعلان کر دونگا کہ انہوں نے محض ٹھہرت کے لئے نام لکھوا دیئے تھے بعض طالب علموں نے نام لکھا دیئے ہیں جب بلایا جائے تو کہہ دیتے ہیں ہم طالب علم ہیں حالانکہ جب میں نے کہا تھا کہ طالب علم نام نہ لکھوائیں تو انہوں نے کیوں لکھوا دیا۔پس ایسے لوگ اپنے نام واپس لے لیں یا یہ لکھ دیں کہ ہمارا وقت فلاں وقت سے شروع ہو گا اس کے بعد ان پر اعتراض نہ ہو گا لیکن اگر ( قادیان سے باہر کے لوگوں کے لئے خطبہ شائع ہونے کے دس روز تک ایسے لوگوں نے نام واپس نہ لئے تو میں اعلان کر دوں گا کہ انہوں نے محض شہرت کے لئے نام لکھوا دیے تھے۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ جتنی بھی عمر ہمیں ملتی ہے وہ نیک اور پاک ہو اور وہ ہمیں توفیق دے کہ اپنی زندگیوں کو ہم اس کی رضاء میں صرف کر سکیں اور ہر روز زیادہ سے زیادہ اصلاح یافتہ اور خدا سے پیار کرنے والے ہوں۔اس کے فضلوں کے مستحق ثابت ہوں۔جب موت آئے اس کی خوشنودی رضاء اور برکات کے ماتحت آئے اور موت کے بعد کی زندگی موجودہ زندگی سے لاکھوں درجہ بڑھ کر اچھی ہو۔ہماری زندگیاں خدا کے لئے ہوں اور موت بھی خدا کے لئے ہو وہی ہمارا سہارا اور ہمارے تو کل کی جگہ ہو۔الفضل ۱۲ / فروری ۱۹۳۵ء) موضوعات کبیر - ملا علی قاری صفحه ۷۵ـ مــطبــوعـــه دهلی ۱۳۴۶ء۔ل هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلَّه وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (الصف: ١٠) ۳ آل عمران: ۱۴۵