خطبات محمود (جلد 16) — Page 89
خطبات محمود ۸۹ سال ۱۹۳۵ء رسول کریم ﷺ کے متعلق فرماتا ہے کہ اَفَاِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ اگر آپ فوت ہو جائیں یا مارے جائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے۔جب صداقت کے ثبوت پورے ہو جائیں اور سب باتیں ظاہر ہو جائیں تو پھر کیا ابتلاء کا موقع رہ جاتا ہے پس یہ درست نہیں کہ عمر کی کمی سے پیشگوئی غلط ثابت ہوتی ہے جب بقیہ باتیں پوری ہو جائیں اور ایک اپنی سمجھ کے مطابق پوری نہ ہو تو اس کی تعبیر کرنی پڑے گی۔لیکن جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہ ضروری نہیں کہ موجودہ خوابوں کی تعبیر عمر کی کمی ہو لیکن اگر لفظی تعبیر بھی ہوتب بھی بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ ہم نے دعا کی تو معلوم ہوا کہ آپ کی عمر بیس سال بڑھ گئی ہے اب کیا ممکن نہیں کہ کسی اور کی دعا سے تیں سال بڑھ جائے اور کسی اور کی دعا سے چالیس سال بڑھ جائے مگر میں کہتا ہوں کہ میرا کام سپاہی کی حیثیت رکھتا ہے میرا فرض یہی ہے کہ اپنے کام پر ناک کی سیدھ چلتا جاؤں اور اسی میں جان دیدوں۔میرا یہ کام نہیں کہ عمر دیکھوں ، میرا کام یہی ہے کہ مقصود کو سامنے رکھوں اور اسے پورا کرنے کی کوشش میں لگا رہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں اس یقین سے کھڑا ہوں کہ یہ مقصود ضرور حاصل ہو گا اور یہ کام پورا ہو کر رہے گا۔یہ رات دن میرے سامنے رہتا ہے اور بسا اوقات میرے دل میں اتنا جوش پیدا ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو تو میں دیوانہ ہو جاؤں۔اس وقت ایک ہی چیز ہوتی ہے جو مجھے ڈھارس دیتی ہے اور وہ یہ ہے کہ میری یہ سکیمیں سب خدا کے لئے ہیں اور میرا خدا مجھے ضائع نہیں کرے گا۔ورنہ کام کا اور فکر کا اسقدر بوجھ ہوتا ہے کہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ عقل کا رشتہ ہاتھ سے چھوٹ جائے گا اور میں مجنوں ہو جاؤں گا مگر اللہ تعالیٰ نفس پر قابو دیتا ہے۔ظلمت میں سے روشنی کی کرن نظر آنے لگتی ہے اور چاروں طرف مایوسی ہی مایوسی کے معاملات کو اللہ تعالیٰ امید اور خوشی سے بدل دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا میرے ساتھ یہ معاملہ شروع سے ہے جب میں خلافت پر متمکن ہوا تو میری حالت کیسی کمزور تھی لیکن اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھے بتا یا کہ کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے اور بعد کے آنیوالے حالات نے بتا دیا کہ واقعی کوئی ایسا نہیں۔حضرت خلیفہ اول کی وفات پر قادیان کو چھوڑ کر باہر کی اکثر جماعتیں متر د ہو گئی تھیں اور جب میں نے یہ اعلان کیا تو پیغامی لوگ میرا مضحکہ اڑاتے تھے مگر آپ میں سینکڑوں ہزاروں ایسے ہیں جن کو سخت مخالفت کے بعد اللہ تعالیٰ میری طرف کھینچ لایا۔پس جس کی ساری زندگی تو کل پر گزری ہو جو بر ملا