خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 836 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 836

خطبات محمود ۸۳۶ سال ۱۹۳۵ء ہے۔میں دیکھتا ہوں وہی کام جو میں تھوڑے سے وقت میں کر لیتا ہوں اگر کسی دوسرے کے سپرد کروں تو وہ دو گنا بلکہ بعض دفعہ چوگنا وقت لے لیتا ہے بلکہ بعض کام جو میں دو گھنٹے میں کر لیتا ہوں اگر کسی اور کے سپر د کروں تو وہ ۲۴ گھنٹے خرچ کر دیتا ہے۔درحقیقت انسانی دماغ میں اللہ تعالیٰ نے یہ قابلیت رکھی ہے کہ اگر انسان چوکس اور ہوشیار ہو کر بات سنے اور اس پر عمل کرے تو وہ اتنی جلد بات سمجھ لیتا اور کام کو پورا کر دیتا ہے کہ دوسرے حیران رہ جاتے ہیں پس اگر تحریک جدید کے بورڈروں کو ہوشیار بنایا جائے اور ان میں چستی اور بیداری پیدا کی جائے تو ان کا دن ۲۴ گھنٹے کا نہ رہے بلکہ ۴۸ یا ۷۲ گھنٹے کا بن جائے یا اس سے بھی زیادہ کا۔تو در حقیقت وقت کی زیادتی آپ ہی آپ ہو سکتی ہے۔اگر لڑکے کو چست بنایا جائے اسے جلدی جلدی لکھنے کی عادت ڈال دی جائے ،جلدی جلدی بات سمجھنے کی قابلیت اس میں پیدا کی جائے ، اور اُس کے تمام عقلی قومی کو تیز کر دیا جائے تو وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ ۲۴ گھنٹے میں کام ختم نہیں ہو تا شکوہ کریں گے کہ ہمارے پاس وقت ہے مگر کام نہیں۔لیکن جلدی سے مراد بے وقوفی نہیں بلکہ سوچ کر اور سمجھ کر جلدی کام کرنا مراد ہے۔وہ لوگ جنہیں خدا تعالیٰ نے روحانی آنکھیں دی ہوئی ہوتی ہیں وہ جانتے ہیں کہ جلد بازی اور جلدی سے کام کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔مولوی برہان الدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک نہایت ہی مخلص صحابی گزرے ہیں۔احمدیت سے پہلے وہ وہابیوں کے مشہور عالم تھے۔اور ان میں انہیں بڑی عزت حاصل تھی۔جب احمدی ہوئے تو باوجود اس کے کہ اُن کے گزارہ میں تنگی آگئی پھر بھی انہوں نے پرواہ نہ کی۔اور اسی غربت میں دن گزار دیئے۔بہت ہی مستغنی المزاج انسان تھے انہیں دیکھ کر کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا کہ یہ کوئی عالم ہیں بلکہ بظاہر انسان یہی سمجھتا تھا کہ یہ کوئی کمی ہیں بہت ہی منکسر طبیعت کے تھے۔مجھے اُن کا ایک لطیفہ ہمیشہ یادرہتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب سیالکوٹ تشریف لے گئے اور وہاں سخت مخالفت ہوئی تو اس کے بعد آپ جب واپس آئے تو مخالفوں کو جس جس شخص کے متعلق پتہ لگا کہ یہ احمدی ہے اُسے سخت تکلیفیں دینی شروع کر دیں۔مولوی برہان الدین صاحب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ٹرین پر سوار کرا کے سٹیشن سے واپس جا رہے تھے کہ لوگوں نے اُن پر گو بر اٹھا اٹھا کر پھینکنا شروع کر دیا۔اور ایک نے تو گو بر آپ کے منہ میں ڈال دیا مگر وہ بڑی خوشی سے اس تکلیف کو