خطبات محمود (جلد 16) — Page 837
خطبات محمود ۸۳۷ سال ۱۹۳۵ء برداشت کرتے گئے اور جب بھی ان پر گوہر پھینکا جاتا تھا بڑے مزے سے کہتے تھے کہ ایہہ دن کتھوں۔ایہ خوشیاں کتھوں اور بتانے والے نے بتایا کہ ذرا بھی اُن کی پیشانی پر بل نہ آیا۔غرض بہت ہی مخلص انسان تھے۔وہ اپنے احمدی ہونے کا موجب ایک عجیب واقعہ سنایا کرتے تھے احمدی گو وہ کچھ عرصہ بعد میں ہوئے ہیں۔مگر انہوں نے دعوئی سے بھی پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو شناخت کر لیا تھا۔درمیان میں کچھ وقفہ پڑ گیا۔انہوں نے ابتداء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر سنا تو پیدل قادیان آئے۔یہاں آ کر پتا لگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام گورداسپور تشریف لے گئے ہیں شاید کسی مقدمہ میں پیشی تھی یا کوئی اور وجہ تھی مجھے صحیح معلوم نہیں۔آپ فوراً گورداسپور پہنچے۔وہاں انہیں حضرت حافظ حامد علی صاحب مرحوم ملے۔یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک دیرینہ خادم اور دعویٰ سے پہلے آپکے ساتھ رہنے والے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ذیل گھر میں یا کہیں اور ٹھہرے ہوئے تھے۔اور جس کمرہ میں آپ مقیم تھے اُس کے دروازہ پر چک پڑی ہوئی تھی۔مولوی برہان الدین صاحب کے دریافت کرنے پر حافظ حامد علی صاحب نے بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے کمرہ میں کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا میں آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔حافظ صاحب نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مصروفیت کی وجہ سے منع کیا ہوا ہے اور حکم دے رکھا ہے کہ آپ کو نہ بلایا جائے۔مولوی صاحب نے منتیں کیں کہ کسی طرح ملاقات کرا دو مگر حافظ صاحب نے کہا میں کس طرح عرض کر سکتا ہوں جبکہ آپ نے ملنے سے منع کیا ہوا ہے۔لیکن آخر بہت سی منتوں کے بعد انہوں نے حافظ صاحب سے اتنی اجازت لے لی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چک سے جھانک کر زیارت کر لیں یا یہ کہ ان کی نظر بچا کر مجھے اس وقت یہ تفصیل یاد نہیں وہ اُس کمرہ کی طرف گئے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھے اور چک اُٹھا کر جھانکا تو دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٹہل رہے ہیں۔اُس وقت آپ کی دروازہ کی طرف پشت تھی اور بڑی تیزی سے دیوار کی دوسری طرف جارہے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی کہ جب آپ کتاب، اشتہار یا کوئی مضمون لکھتے تو بسا اوقات ٹہلتے ہوئے لکھتے جاتے اور آہستہ آواز سے اُسے ساتھ ساتھ پڑھتے بھی جاتے۔اُس وقت بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوئی مضمون لکھ رہے اور بڑی تیزی سے ٹہلتے جارہے تھے اور ساتھ ساتھ پڑھتے جاتے تھے۔دیوار کے قریب پہنچ کر جب حضرت