خطبات محمود (جلد 16) — Page 76
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء جماعت پر لگا دی ہیں تو پھر ان کے دل کیوں دھڑ کنے لگ گئے۔لیکن میں فرض کر لیتا ہوں کہ ہماری ہر قسم کی احتیاط کے باوجود پھر بھی گورنمنٹ ہماری جماعت کے افراد کو پکڑنے لگ جائے تو اس صورت میں بھی ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ کانگرس سے بڑھ کر تو تم نے شور نہیں مچانا تھا اور اگر کانگرس کے تمام افراد شور مچانے کے باوجود پکڑے نہیں جاتے یا بعض پکڑے جاتے ہیں اور وہ نہیں گھبراتے تو تمہارے گھبرانے کی کیا وجہ تھی۔لیکن میں فرض کر لیتا ہوں کہ کوئی ایسا ظالم حاکم بھی ہو کہ باوجود اس کے کہ تم قانون کی پابندی کرو، شریعت کی پابندی کرو، سلسلہ کی روایات کو ملحوظ رکھو، پھر بھی وہ تمہیں گرفتار کر لے تو اس پر بھی تمہیں بالکل ڈرنا نہیں چاہئے تھا کیونکہ اس صورت میں تم حق پر ہوتے اور وہ ناحق پر اور حق پر ہوتے ہوئے قید و بند تو فخر کی بات ہوتی ہے نہ کہ گھبرانے کی۔دیہات میں اس قسم کی مثالیں بعض دفعہ نظر آ جاتی ہیں کہ کسی شخص سے دشمنی ہو اور وہ گاؤں کے پاس سے بھی گزرے تو لوگ اسے پکڑ لیتے اور اس پر جھوٹا مقدمہ کھڑا کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ چور بن کر آیا تھا اور جھوٹی گواہیاں دے کر اسے سزا دلا دیتے ہیں۔پس اول تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی ایسا ظالم حاکم ہولیکن فرض کر لو کہ قانون کی پابندی ، شریعت کی پابندی اور سلسلہ کی روایات کی پابندی کرنے کے باوجود پھر کوئی افسر تمہیں پکڑ لیتا ہے، جھوٹا مقدمہ کھڑا کر دیتا ہے جھوٹی گواہیاں لوگ دینی شروع کر دیتے ہیں اور وکلاء کی کوششیں بھی ناکام رہتی ہیں اور تمہیں سزا ہو جاتی ہے تو پھر بھی کیا ہوا۔حضرت مسیح علیہ السلام کو تو دشمنوں نے صلیب پر لٹکا دیا تھا تم کونسے ایسے مقدس ہو کہ تمہیں کبھی بھی کوئی تکلیف نہیں پہنچنی چاہئے مگر میں جانتا ہوں اصل غرض معترضین کی سلسلہ کا مفاد نہیں۔چنانچہ انہی معترضین میں سے ایک کو باہر تبلیغ کے لئے بھیجا گیا تھا مگر وہ چار سال تبلیغ کی بجائے سیاسیات میں ہی گزار کر واپس آ گیا۔اب وہی شخص ہماری جماعت کے سیاست میں دخل دینے پر اعتراض کر رہا ہے اور اعتراض بھی کس بھونڈے طریق سے کیا ہے کہ خط کے آخر میں اس نے لکھ دیا میں سمجھتا تھا کہ آپ کو قادیان کے حالات سے آگاہ کر دوں تا میں خدا تعالیٰ کے حضور ان باتوں کو چھپانے کی وجہ سے گنہگار نہ ٹھہروں۔گویا اس نے مجھے اتنا بیوقوف سمجھ لیا کہ میرے اس خطبہ پر اعتراض کرنیکے بعد جس میں میں نے ساری جماعت کو مخاطب کیا ہے اس کے آخر میں یہ لکھ دینے سے کہ میں قادیان کے حالات سے آپ کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں میں سمجھ لوں گا کہ گویا وہ قادیان کے حالات سے مجھے اطلاع دے رہا ہے اور اس کی نیت مجھ پر