خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 800 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 800

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء ریورنڈو ڈ(REVEREND WOOD) کو اس کام کے لئے منتخب کیا۔اُس کی عمر اس وقت ۵۰ ، ۵۵ سال کی ہوگی۔اور پھر اُس نے ساری عمر اسی کام میں گزاری تھی مگر میری عمر اس وقت ۱۷، ۱۸ سال سے زیادہ نہ تھی اور میں طالب علم تھا لیکن میں نے تبلیغ کے لئے اُسی کو چنا۔اور پندرہ بیس منٹ کی گفتگو میں ہی میں میں نے اُس کا ناطقہ ایسا بند کر دیا کہ وہ گھبرا گیا اور یونانی کی ایک مثال پڑھ کر اُس کا مطلب بیان کیا کہ سوال تو ہر جاہل شخص کر سکتا ہے مگر جواب دینے کے لئے عقلمند چاہئے۔اس کا مطلب تھا کہ تم تو اعتراض کر رہے ہو اور اعتراض ہر شخص حتی کہ بیوقوف بھی کر سکتا ہے اور اس طرح اس نے مجھ پر طنز کر کے اپنا پیچھا چھڑانا چاہا۔مگر خدا تعالیٰ نے اس طنز میں بھی مجھے غالب کیا۔میں نے پلا ساختہ اسے جواب دیا کہ میں تو آپ کو عقلمند ہی سمجھ کر آیا تھا اور وہ یہ جواب سن کر شرمندہ ہو گیا۔یہ اُس وقت کی بات ہے جب میں طالب علم تھا اور طالب علم بھی وہ جو کبھی کسی جماعت میں پاس نہیں ہوا۔میں سمجھتا ہوں کہ ظاہری امتحانوں میں اللہ تعالیٰ نے مجھے شاید اسی لئے کبھی کامیاب نہ ہونے دیا تا جماعت کے سامنے ایک زندہ مثال رہے کہ جن کو خدا تعالیٰ بڑھا تا ہے اُنہیں ظاہری علوم کی ضرورت نہیں ہوتی۔تم لاؤ کسی فن اور کسی علم کے آدمی کو جو مجھ سے بات کرے فلسفی ، اقتصادیات کا ماہر، تاریخ دان ، سائنس دان ،غرضیکہ کسی علم کا جاننے والا آ کر اسلام پر کسی رنگ میں اعتراض کرے میرا نہ صرف یہ دعوی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی نصرت سے اسے اس میدان میں شکست دے سکتا ہوں بلکہ یہ دعویٰ ہے کہ میں اُسے قرآنی دلائل سے شکست دے سکتا ہوں۔یہ اللہ تعالیٰ نے ایک نشان رکھا ہے اُن لوگوں کے لئے جو تبلیغ سے اس وجہ سے کتراتے ہیں کہ ہمیں علم نہیں۔ایمان کے ہوتے ہوئے علم دوسروں سے سیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ایمان علم آپ سکھا لیتا ہے جب ایمان کی صیقل چڑھ جائے تو بڑے بڑے لارڈ پادریوں اور علماء کا مقابلہ انسان کر سکتا ہے۔لیکن ہر شخص کا ایمان چونکہ اس پایہ کا نہیں ہوتا ہر مؤمن سے ہم یہ امید نہیں رکھتے کہ وہ بڑے سے بڑے آدمی سے بڑھ جائے۔لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ ہر مؤمن کو اپنے طبقہ کے ہر شخص پر ضرور فوقیت حاصل ہوتی ہے۔پس کوئی شخص اپنے علم کی کمی کے عذر کی وجہ سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا لیکن افسوس کہ بہت کم لوگوں نے اس تحریک میں حصہ لیا قادیان کے لوگ اس تحریک سے سب جماعت میں اول رہے ہیں۔لیکن اس میں کسی قدر جبری بھرتی کا بھی دخل ہے۔اگر یہاں کے لوگ بھی اپنی ذمہ واری کا پوری طرح