خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 72

خطبات محمود ۷۲ سال ۱۹۳۵ء میں دخل دینا شروع کر دیں گے جو ان کے لئے جائز نہیں۔پس گورنمنٹ کے ملازموں کو اس میں دخل دینے سے بچانے کے لئے میں نے الگ سیاسی انجمنیں قائم کرنے کی تحریک کی۔پھر میرا یہ بھی مقصد تھا کہ ان انجمنوں میں شامل ہونا اختیاری رکھ کر ” با اصول کو ٹھو کر کھانے سے محفوظ رکھوں۔مگر میری تمام احتیاطوں کے باوجود یہ با اصول لوگ بول ہی پڑے حالانکہ جن شرائط کے ماتحت میں نے سیاسی انجمنوں کی اجازت دی ہے وہ یہ ہیں کہ لوگ قانون کی پابندی کریں، شریعت کی پابندی کریں اور سلسلہ کی روایات کو برقرار رکھیں۔مگر کیا ہم پہلے ایسے کام نہیں کرتے تھے جو قانون کے اندر ہوں۔کیا پہلے ہم ایسے کام نہیں کرتے تھے جو شریعت کے ماتحت ہوں اور جن میں روایات سلسلہ کا احترام مد نظر ہو۔اگر سب کچھ کرتے تھے تو اس میں نئی بات کونسی ایسی پیدا ہو گئی تھی جس پر انہیں حیرت ہوئی۔نئی چیز جو پیدا ہوئی ہے وہ صرف آرگنائزیشن (ORGANIZATION) اور نظام ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ یہ نظام میں نے دوغرضوں سے قائم کیا ہے ایک تو اس لئے کہ سرکاری ملازم اس میں سے نکل جائیں اور دوسرے اس لئے کہ ایسے ” با اصول نکل جائیں۔پس ایک طرف تو میں نے گورنمنٹ کی خیر خواہی کی تا کہ ملک میں بددیانتی کی روح پیدا نہ ہو اور دوسری طرف اس میں شمولیت کو اختیاری رکھ کر اس قسم کے لوگوں کو دور رکھنا چاہا جو جماعت کے ساتھ نہیں چل سکتے کیونکہ میرا خیال تھا وہ کہہ دیں گے یہ مذہبی انجمنیں تو ہیں نہیں، ان میں شامل ہونا کیا ضروری ہے چلو چھٹی ہوئی۔مگر انہوں نے خواہ مخواہ دخل دے دیا اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ پالیٹکس (POLITICS) میں دخل دیا گیا تو جماعت تباہ ہو جائے گی۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس سے پہلے پالیٹکس میں دخل نہیں دیتے تھے۔کیا سائمن کمیشن کی رپورٹ پر میں نے تبصرہ نہیں لکھا کیا نہر ور پورٹ پر تبصرہ میں نے نہیں کیا پھر کیا عدم تعاون کی تحریک کے دوران میں نے اس موضوع پر ایک کتاب نہ لکھی۔کیا کانگرس کے متعلق جماعت نے ہمیشہ ریزولیوشنز پاس نہیں کئے اور کیا سلسلہ احمدیہ پر جب بھی کوئی حملہ ہوا، اس کے ازالہ کے لئے ہماری جماعت نے کوششیں نہیں کیں؟ یہ سب کچھ ہوتا رہا مگر اس وقت اس مقصد کے لئے علیحدہ انجمنیں نہیں تھیں اور تمام جماعت کا ان امور میں دخل دینا میں نے اس لئے جائز رکھا کہ وہ کام گورنمنٹ کی بہبودی سے تعلق رکھتا تھا اور گورنمنٹ کی بہبودی کے متعلق جو تحریکات جاری کی جائیں انہیں کسی صورت میں نہیں روکا جا سکتا۔اسی لئے ایک دفعہ جب میں نے لارڈ ارون (LORD IRWIN) سے