خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 751 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 751

خطبات محمود ۷۵۱ سال ۱۹۳۵ء اسلام اور وعدہ خلافی لازم و ملزوم چیزیں ہیں۔تو اب یہ زمانہ ہے کہ مسلمان کی بات کا اعتبار ہی کوئی نہیں رہا اور یہ حالت اسی وقت سے ہوئی ہے جب سے یہ خیال پیدا ہو گیا کہ اسلام کے لئے قربانی کا زمانہ کسی وقت ختم بھی ہو سکتا ہے۔خدا تعالیٰ کی کوئی تحریک کبھی ختم نہیں ہوتی۔ہاں اس کی شکلیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں انسان پہلے بچہ ہوتا ہے پھر لڑکپن آتا ہے ، پھر جوان ، پھر ادھیڑ اور پھر بوڑھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے۔کیا ہر شکل پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ختم ہو گیا۔ہاں ہر شکل کی تبدیلی پر مختلف غذا اور مختلف لباس کی ضرورت رہتی ہے یہی حال خدائی تحریکات کا ہے۔اور جب تک نقطہ نگاہ نہ سمجھا جائے اُس وقت تک تباہی دوبارہ آ جاتی ہے۔اور جو لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے وہ مذہب کو تباہ کرنے والے ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی طرف سے جو تحریکات ہوتی ہیں اُن کی صرف شکلیں بدلتی ہیں وہ ختم کبھی نہیں ہوتیں۔اور نہ وہ افراد سے وابستہ ہوتی ہیں۔میں جاؤں گا تو خدا تعالیٰ کسی اور کو کھڑا کر دے گا پھر وہ جائے گا تو خدا تعالیٰ اور کو کھڑا کر دے گا۔اور جو یہ کہے گا کہ ہم نے اپنا کام ختم کر لیا ہے وہ اسلام کو فنا کرنے والی تحریک کا بانی ہو گا اور اس تحریک کا آدم کہلائے گا۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسلام کے دوبارہ احیاء کے آدم تھے اور ہر وہ شخص جو اپنی ہر چیز کو اسلام پر قربان کرنے کے لئے تیار ہے اپنے حلقہ میں اسلام کو زندہ رکھنے کی تحریک کے لئے بمنزلہ آدم کے ہیں۔اسی طرح جو شخص یہ خیال کر لے گا کہ اسلام کی اشاعت کے لئے اُس کا کام ختم ہو گیا وہ اسلام کو فنا کرنے کی تحریک کا آدم ہو گا۔جس طرح ہر نیکی جو اسلام کے احکام کی تعمیل میں کی جاتی ہے خواہ وہ مسلمانوں کی طرف سے ہو یا غیر مسلموں کی طرف سے۔کیونکہ کئی غیر مسلم بھی قرآن کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں اور خواہ وہ پہلی صدی میں ہو یا دسویں صدی میں یا اس صدی میں یا آئندہ کسی صدی میں اس کا ثواب رسول کریم کو ملتا ہے اور قیامت تک کی تمام نیکیوں کا ملتا رہے گا اور جس طرح آئندہ ہر ایک اس نیکی کا جو اسلام کے دوبارہ احیاء کے لئے قیامت تک کی جائے گی ، اس کا ثواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی ملتا رہے گا۔اسی طرح جو شخص یہ اطمینان کر کے بیٹھ جائے گا کہ کام ختم ہو گیا تبلیغ اور تربیت میں جس قدر کمی ہوگی اور اسکے نتیجہ میں جس قدر خرابی پیدا ہوگی اُس سب کا گناہ اُس کے سر پر ہو گا۔اسلام یونہی تباہ نہیں ہوا۔کوئی نہ کوئی بد بخت تھا جس کے دل میں پہلے یہ خیال پیدا ہوا کہ اب اسلام ترقی کر چکا ہے اب ان قربانیوں کی ضرورت نہیں رہی جن کی ضرورت پہلے تھی۔وہ ابلیس سے بدتر انسان تھا