خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 732 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 732

خطبات محمود ۷۳۲ سال ۱۹۳۵ء احمدیت کہاں سے کہاں پہنچی۔پہلے یہ چھوٹی سی تھی۔میرے بائیں طرف جو مسجد کا حصہ ہے اس کا بھی نصف اُس وقت مسجد تھا اور وہ بھی خالی رہتا تھا لیکن آج اس سے تین چار گنے مسجد بڑی ہوگئی ہے اور اب بھی لوگ باہر اور چھتوں پر بیٹھے ہیں اور جب نماز ہوگی تو گلیوں میں انہیں پھیلنا پڑے گا۔یہ نصرت آخر کیوں ہوئی ؟ اس لئے کہ سچائی اور صداقت ہمارے پاس ہے اور خدار استی کی تائید کرتا لیکن جھوٹ کی تائید نہیں کیا کرتا۔اس کے بعد میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جہاں یہ مخالفتیں ہماری طبیعت میں تشویش پیدا کرتی ہیں اور ہمارے اصل کاموں سے ہٹا کر ہمیں دوسری طرف متوجہ کر دیتی ہیں وہاں ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان مخالفتوں کی وجہ سے ہماری ذمہ داریاں اور بھی بڑھ رہی ہیں۔اور یہ مخالفت میں اس بات کی گواہ ہیں کہ ابھی ہمارے سامنے بہت بڑا کام پڑا ہے جسے ہم نے پورا کرنا ہے۔آج کونسی آواز ہے جو احمدیت کے خلاف اُٹھتی ہو اور لوگ اُس پر دیوانہ وار لبیک کہنے کے لئے تیار نظر نہ آتے ہوں۔آج یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ اگر لوگوں میں عزت مل سکتی اور روپیہ کمایا جاسکتا ہے تو اس کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ احمدیت کی مخالفت کی جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی فرماتے تھے اس زمانہ میں لوگوں کو دو ہی طرح عزتیں مل رہی ہیں ہمیں مان کر یا ہمارا انکار کر کے۔آپ فرماتے بہر حال ہمارے ذریعہ سے ہی لوگوں کو رزق مل رہا ہے یعنی یا تو ماننے والے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عزت حاصل کر لیتے ہیں یا انکار کرنے والے لوگوں میں عزت حاصل کر لیتے ہیں۔اور فرمایا کرتے ہمارے مخالفوں کو تو ہمارا ممنونِ احسان ہونا چاہئے کہ وہ محض ہماری وجہ سے روٹیاں کھا رہے ہیں۔اور واقعہ میں دیکھ لو جو مولوی ہمارے سلسلہ کی مخالفت نہیں کرتے ان کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔مگر جو مخالفت کرنے والے مولوی ہیں اُن کی خوب آؤ بھگت ہوتی ہے۔پہلے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اُٹھے اور اُنہوں نے خوب مخالفت کی۔لوگوں نے ان کا ساتھ دیا حتی کہ انہیں یہ وہم ہو گیا کہ گویا وہ سارے ہندوستان کے مسلمانوں کے نمائندہ ہیں۔پھر ان کے بعد چھوٹے چھوٹے مخالف تو بہت اُٹھے لیکن صحیح معنوں میں مولوی ثناء اللہ صاحب ان کے جانشین ہوئے اور ہمارے سلسلہ کی مخالفت کی وجہ سے ان کی بڑی شہرت ہوئی۔چنانچہ ایک دفعہ وہ قادیان آئے تو انہوں نے چیلنج دیا کہ مرزا محمود کو کہو وہ میرے ساتھ کلکتہ تک چلے پھر دیکھے کہ پتھر کس پر پڑتے ہیں اور پھول کس پر