خطبات محمود (جلد 16) — Page 717
خطبات محمود 212 سال ۱۹۳۵ء باتوں میں نہ آؤ اور اگر کسی کا دل ایسا ہے کہ اُس پر منافقوں کی باتوں کا اثر ہوتا ہے تو اسے چاہئے کہ علیحدہ ہو جائے منافق کی رفاقت ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ منافق تمہارے ساتھ ہو نگے تو تمہاری صفوں کو خراب کریں گے پس ہر ایسا شخص پیچھے ہٹ جائے تو یہ بھی اُس کی ایک خدمت ہو گی۔مگر یاد رکھو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کوئی کھیل نہیں یہ شیطان سے جنگ کا آخری اعلان ہے۔آج کل اٹلی اور حبشہ کی جنگ ہو رہی ہے۔مگر اس کی کیا حقیقت ہے تمہاری اس جنگ کے مقابلہ میں۔لیکن اسی جنگ سے اٹلی ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہل گیا ہے۔مسولینی نے بھی حکم دیا ہے کہ لوگوں کو گوشت کی ایک ہی ڈش ملے یہ پہلا حکم ہے جو کسی ملک میں دیا گیا ہے اور یہ میرے حکم کے بعد کا ہے۔اٹلی کے ڈکٹیٹر کا حکم ہے کہ تمام ملک میں ہر شخص گوشت کی ایک ہی ڈش استعمال کرے۔مگر ابھی وہ اس مقام پر نہیں پہنچا جو میں نے تجویز کیا تھا یعنی کسی قسم کا دوسرا سالن استعمال نہ کرو مگر بہر حال آج اٹلی کے لوگ ایک چھوٹی سی جنگ کے لئے ہر قسم کی قربانیاں کر رہے ہیں۔اگر ہم خدا تعالیٰ کی بات پر ایمان رکھتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی عظمت پر یقین رکھتے ہیں تو ہمارے اندر اٹلی سے زیادہ جنبش پیدا ہونی چاہئے کیونکہ ہماری جنگ اس جنگ سے بڑی ہے اور جس قدر وہ بڑی ہے اسی قدر قربانی بھی بڑی ہونی چاہئے۔یہ جنگ احادیث کی رو سے شیطان اور رحمن کی آخری جنگ ہے پس جب تک تم اپنی زندگیوں کو روحانی سپاہیوں کے رنگ میں نہ ڈھال لو اور اپنے آپ کو خدا کے حکموں سے مقید نہ کر لو ، فتح حاصل نہیں کر سکتے۔جنگ عظیم میں دو کروڑ آدمی مارے گئے یا زخمی ہوئے تھے۔اربوں ارب روپیہ خرچ ہو ا تھا۔صرف انگریزوں کا دو کروڑ روپیہ روزانہ صرف ہوتا تھا مگر ہمارے لئے اس سے بڑھکر جنگ در پیش ہے کیونکہ ہمارا کام دلوں کا فتح کرنا اور انسانوں کی عادتوں اور اخلاق اور خیالات کو بدلنا ہے ، ہم جب تک اپنے اوقات اور اپنے اموال کو ایک حد بندی کے اندر نہ لے آئیں اور اس کے بعد خدا تعالیٰ سے عرض نہ کریں کہ اے خدا! تو نے ہمیں بلایا اور ہم تیرے حضور حاضر ہو گئے ہیں اُس وقت تک سب دعوے باطل اور اُمنگیں اور خواہشیں بے سود ہیں اور کوئی چیز ہمیں فائدہ نہیں دے سکتی۔خالی دعوے تو پاگل بھی کرتا ہے لیکن اُس کے دعوؤں کو کون وقعت دیتا ہے کیونکہ وہ جو کہتا ہے کرتا نہیں ہے اور عمل کے بغیر کوئی ترقی نہیں ہوگی تحریک کے متعلق باقی حصے میں اِنشَاءَ اللہ اگلے خطبات میں بیان کروں گا