خطبات محمود (جلد 16) — Page 709
خطبات محمود 2۔9 سال ۱۹۳۵ء جاؤ گے، اُسے لوہے کی ایسی چار دیواری میں بند پاؤ گے کہ تمہارے دلائل اُس سے ٹکر اٹکرا کر اُسی طرح ضائع ہو جائیں گے جس طرح کوئی مضبوط شخص چٹان کے ساتھ اپنا سر ٹکر اٹکرا کر پھوڑ لیتا ہے پس تم بھی اپنے ماحول کو وسیع کرو۔ہوشیار جرنیل لڑائی میں اپنی صفوں کو لمبا کرتے ہیں تا دشمن کے پہلوؤں پر سے گزر کر عقب میں سے اس پر حملہ کر سکیں۔ان کے دشمن بھی اگر ہوشیار ہوتے ہیں تو وہ بھی اپنے بازوؤں کو پھیلاتے جاتے ہیں تا کہ حملہ آور اپنے اس ارادہ میں کامیاب نہ ہو سکے۔پس جب ہمارا دشمن اپنی صفوں کو پھیلا رہا ہے تا کہ ہمارے لئے واپسی کا راستہ بھی باقی نہ چھوڑے تو ہمارا بھی فرض ہے کہ اپنی صفوں کو وسیع کریں۔اس لئے اس سال پچھلے سال سے قربانی کی ضرورت زیادہ ہے اور میں دوبارہ اعلان کرتا ہوں کہ اس سال بھی سادگی اور کفایت کا اصول مد نظر رکھا جائے۔میں نے ممانعت کی تھی کہ کوئی احمدی سنیما تھیٹر اور سرکس وغیرہ نہ دیکھے سوائے اِس کے کہ کسی کو اپنی ڈیوٹی کے طور پر یا سرکاری حیثیت سے وہاں جانا پڑے۔مثلاً بعض لوگ در باروں وغیرہ میں شامل ہوتے ہیں اور پروگرام کی تقاریب دیکھنی پڑتی ہیں یا سنیما میں کوئی احمدی ملازم ہو اور اللہ تعالیٰ نے اُس کی روزی اسی میں رکھی ہو تو اُسے مشین وغیرہ دیکھنے کے لئے جانا ہو گا مگر وہ بھی تماشہ دیکھنے کے لئے نہ جائے۔یہ امر اختیاری نہیں رکھا گیا بلکہ لازمی تھا۔اور میں نے کہا تھا کہ تین سال تک ہر احمدی اس سے احتراز کرے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ تین سال کے بعد میں اجازت دے دوں گا بلکہ میں نے کہا تھا کہ اس کے بعد علماء سے مشورہ کر کے فتوئی شائع کیا جائے گا۔اس وقت نظامی لحاظ سے میں تین سال کے لئے ممانعت کرتا ہوں۔دوسری نصیحت یہ ہے کہ میں نے گزشتہ سال بتایا تھا کہ مال کے خرچ ہونے کی بڑی بڑی آٹھ جگہیں ہوتی ہیں۔ایک کھیل تماشہ، دوسرے غذا ، تیسرے لباس، چوتھے زیور ، پانچویں علاج وغیرہ ، چھٹے آرائش ، ساتویں تعلیمی اخراجات اور آٹھویں شادی بیاہ وغیرہ۔یہ آٹھ مواقع ہیں جن پر بیشتر حصہ روپیہ کا خرچ ہوتا ہے جب تک ان آٹھوں میں حد بندی نہ کی جائے ،اُس وقت تک خدا کے لئے قربانی کی آواز پر لبیک نہیں کہا سکتا۔پس سنیما اور تھیٹر ، سرکس وغیرہ کی پھر ممانعت کرتا ہوں۔اس کے بعد سادہ غذا ہے۔یہ میں نے اختیاری رکھا تھا مگر جماعت کے اکثر دوستوں نے اسے قبول کیا۔اس میں بھی میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ہر احمدی خواہ بڑا ہو یا چھوٹا ، امیر ہو یا غریب یہ