خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 708 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 708

خطبات محمود ۷۰۸ سال ۱۹۳۵ء ماحول کی ضرورت ہے ، وہ آج بھی ویسی ہے۔ہمارے خلاف لوگوں میں اس قدر اشتعال بھر دیا گیا ہے کہ تبلیغ کا کام بہت مشکل ہو گیا ہے۔بے شک اس سال بیعت گزشتہ سالوں کی نسبت زیادہ ہے مگر اس سال تبلیغ بھی تو گزشتہ سالوں سے بہت زیادہ ہوئی ہے۔اور جب محنت زیادہ اور نتیجہ کم ہو تو اس کا یہی مطلب ہے کہ ہم نے کچھ کھویا ہے پایا نہیں۔پچھلے سال اگر کوئی چیز پانچ روپیہ سیر تھی اور تم پانچ روپے دے کر ایک سیر لے آئے۔اور اس سال وہ آٹھ روپیہ سیر ہو اور تم دس روپیہ دے کر سوا سیر لے آئے تو زیادہ خریدنے کی وجہ سے یہ نہیں کہیں گے کہ تم زیادہ مالدار ہو گئے ہو۔جو چیز تم گھر میں لائے گو وہ زیادہ تھی مگر جور قتم تم نے اس سال دی وہ نسبتا بہت ہی زیادہ تھی۔پس دیکھنا یہ ہے کہ تم نے خرچ کیا کیا اور نتیجہ کیا نکلا۔مجھے یقینی طور پر تو علم نہیں مگر مجھ پر یہ اثر ہے کہ بیعت اس سال زیادہ ہے مگر اس کے مقابلہ میں اس سال ہم نے تبلیغ پر جو زور دیا ہے وہ بھی پہلے سالوں سے بہت زیادہ ہے۔پہلے سالوں میں اگر ۳۰، ۴۰ مبلغ کام کرتے تھے تو اس سال چھ سات سو مبلغین نے کام کیا ہے۔اس لئے اگر بیعت سوائی یا ڈیوڑھی بھی ہو گئی ہو تو یہ کوئی خوشی کا موقع نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مشکلات بڑھ گئی ہیں اور قربانی کی زیادہ ضرورت ہے۔دشمن کا حملہ بھی زیادہ ہے گو احرار کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے شکست ہوئی ہے مگر ہمارے مخالف صرف احرار ہی نہیں۔جو لوگ ان کے مخالف ہیں وہ بھی ہماری مخالفت میں ان سے کم نہیں۔بلکہ آجکل تو مخلص مسلمان کی علامت ہی یہ ہوگئی ہے کہ ہم کو زیادہ گالیاں دے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ احرار کو ذلیل کرنے کے لئے جو پچاسوں واعظ پھر رہے ہیں وہ بھی ان کی مخالفت کرنے سے پہلے ہم کو گالیاں دے لیتے ہیں تا ان پر احمدی یا احمدی نواز ہونے کا الزام نہ آ سکے۔اور اس طرح ہماری مخالفت جو پہلے محدود تھی اب زیادہ پھیل گئی ہے حتی کہ اب کے ڈسٹرکٹ بورڈوں کے جو انتخاب ہوئے ہیں ان میں بھی احمدیت یا احمدیوں کی حمایت کا سوال اُٹھایا جاتا رہا ہے۔اور لوگوں نے اپنے مخالف کو شکست دینے کا ذریعہ ہی یہ سمجھا ہوا تھا کہ اسے احمدی یا احمدی نواز قرار دیا جائے۔چنانچہ اس غرض کے لئے بیسیوں لوگوں نے مولویوں اور پیروں کو رتمیں دے دے کر احمدیت کی مخالفت کرائی۔اس جد و جہد سے ہمارا نام تو بے شک پھیلا مگر ہمارے خلاف بغض بھی بڑھ گیا۔اور اس صورتِ حالات کا مقابلہ کرنا ہمارا فرض ہے ورنہ ایک دو سال میں ہمارے خلاف ایسی دیوار بن جائے گی جسے تو ڑنا بہت مشکل ہو گا۔تم جس دل کو دلائل سے فتح کرنے کے لئے