خطبات محمود (جلد 16) — Page 707
خطبات محمود 2۔2 سال ۱۹۳۵ء بیوقوف سمجھتا ہے اسے چاہئے کہ پہلے دو چار گھنٹے بچائے اور پھر یہ نہ کہے کہ میں سارا وقت پیش کرتا ہوں بلکہ کہے کہ تین گھنٹے میں پیش کر سکتا ہوں۔دیانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ جب تم دعوی کرتے ہو تو اس کے پورا کرنے کے سامان بھی مہیا کرو ورنہ تم تمسخر کرتے ہو خدا سے، اور تمسخر کرتے ہواُس کے رسول سے ، اور تمسخر کرتے ہو اُس کے خلیفہ سے اسی طرح ایک شخص کہتا ہے میں اپنی جان دین کے لئے پیش کرتا ہوں اور حقیقتا وہ اپنی جان کسی اور کے پاس بیچ چکا ہوا ہے تو میں اُس کے اس دعوی کو کیا کر سکتا ہوں۔پس میں نے بتایا تھا کہ اگر واقعہ میں تمہارے اندر آگ ہے ، عشق ہے ، زندگی ہے اور قربانی کی خواہش ہے تو اس کے لئے ماحول پیدا کرو پھر تم مؤمن بن سکو گے اور پھر خدا کے گھر میں تمہاری عزت ہوگی۔اگر ایسا نہیں تو تم خدا کو دینے نہیں آئے بلکہ اُس سے لینے آئے ہو۔دوسری بات یہ کہی تھی کہ گنجائش کے علاوہ قربانی کی عادت بھی چاہئے۔ہمارے ملک میں ملانوں کی قوم لالچی مشہور ہے۔کہتے ہیں کوئی ملا کسی خشک کنویں میں گر گیا جو بہت گہرا نہیں تھا۔لوگ اسے نکالنے کے لئے جمع تھے اور کہتے تھے کہ مُلا جی! ہاتھ دو مگر وہ چپ چاپ کھڑا تھا۔کوئی مسافر گزر رہا تھا اُس نے کہا کہ آپ لوگ ملانوں کا مزاج نہیں سمجھتے دیکھو! میں ملا کو نکالے دیتا ہوں۔یہ کہہ کر وہ آگے بڑھا اور اپنا ہاتھ لٹکا کر کہا کہ ملا جی ! ذرا ہاتھ تو لینا اُس کا یہ کہنا تھا کہ ملا نے اُچک کر اُس کا ہاتھ پکڑ لیا۔یوں تو یہ لطیفہ ہے مگر اس میں صداقت ضرور ہے یعنی جسے کسی کام کی عادت نہ ہو وہ اُسے کر نہیں سکتا عیسائیوں نے اس سے بہتر انتظام کر رکھا ہے۔وہ صدقہ خیرات پادریوں کے سپرد کر دیتے ہیں اس لئے ان میں قربانی اور ایثار کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔پس اول تو قربانی کے لئے سامان جمع کرو اور پھر اس کی عادت ڈالو اگر سامان نہیں ہیں تو کہاں سے دو گے۔جب مال بچاتے نہیں۔جان کسی کے سپرد ہے وقت سب تقسیم شدہ ہے تو خدا کو کیا دو گے۔بے شک ایک وقت ایسا آتا ہے کہ جب سب کام کاج چھوڑ دینے کا حکم ہوتا ہے ایسے موقع پر مخلص تو ضرور گھر بار سب کچھ چھوڑ کر آ جائیں گے مگر اس سے پہلے پہلے جو قربانیاں ہیں جو لوگ انہیں بھی نہیں کر سکتے وہ یہ انتہائی قربانی کس طرح کر سکتے ہیں۔ابھی تو صرف یہ کہا جاتا ہے کہ اپنی آمد کا ایک حصہ پیش کر دو لیکن جو شخص یہ بھی نہیں کرتا وہ موقع آنے پر نوکری سے استعفیٰ دے کر کس طرح آجائے گا۔پس گزشتہ سال جو میں نے کہا تھا کہ قربانی کے لئے