خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 649 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 649

خطبات محمود ۶۴۹ سال ۱۹۳۵ء گھبراہٹ میں ڈال دیا تھا اور وہ سمجھنے لگے تھے کہ جماعت کا مستقبل نہایت تاریک نظر آتا ہے۔اسی مقام سے، اسی دن اور اسی مہینہ میں گزشتہ سال میں نے جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ وہ جب تک اپنی حالت میں تبدیلی نہ کرے گی ، مغربی اثر کو دور کر کے مکمل اسلامی طریق اختیار نہیں کریگی اور اس راہ کو جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے قائم کردہ جماعتیں چل کر کامیاب ہوتی ہیں اختیار نہ کرے گی اُس وقت تک یہ مصائب اور مشکلات کسی صورت میں دُور نہ ہوں گی۔میں نے ایک سکیم بیان کی تھی جس کے پہلے حصہ کے لئے تین سال کی میعاد مقرر کی تھی۔اور بتایا تھا کہ یہ مصائب اور ابتلاء آنے ضروری ہیں اور جو جماعتیں ان سے گھبرا جاتی ہیں اور اپنے قدموں کو سست کر دیتی ہیں وہ روحانی دنیا میں کبھی ترقی نہیں کر سکتیں۔اور یہ کہ روحانی اور دُنیوی لشکروں میں فرق ہی یہ ہوتا ہے کہ دنیوی لشکر ایک حد تک چل کر رُک جاتے ہیں لیکن روحانی لشکر جب تک اس منزل پر نہیں پہنچ جاتے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کیلئے مقدر ہوتی ہے، اپنے قدم سُست نہیں کرتے۔اور میں نے جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ ہمارے سامنے ایک قوم ایک ملک یا ایک مذہب کے لوگ نہیں ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی سب اقوام ، سب ممالک اور سب مذاہب و ملل کی طرف مبعوث فرمایا ہے اس لئے ہمارا صرف یہ کام نہیں کہ ہندوستان کے لوگوں کو فتح کریں، چین کے لوگوں کو فتح کریں، جاپان ، افغانستان یا عرب کے لوگوں کو فتح کریں۔ایشیا، افریقہ یا جزائر کے لوگوں کو فتح کریں بلکہ ہمارے سپرد یہ کام ہے کہ دنیا کے ہر ملک اور زمین کے ہر حصہ میں رہنے والے لوگوں کے دلوں کو فتح کریں اور ان دلوں کو صاف اور پاک کر کے خدا تعالیٰ کے قدموں میں لا ڈالیں۔اور ظاہر ہے کہ یہ کام کوئی معمولی کام نہیں اور معمولی قربانیاں اس کے لئے کافی نہیں ہوسکتیں۔یہ کام نہیں ہوسکتا جب تک یہ بات ہمارے دلوں میں نقش نہ ہو جائے اور ہمارے سینوں کے اندر ایک آگ نہ لگ جائے۔ایسی آگ جسے دنیا کی کوئی طاقت سرد نہ کر سکے اور جو ہمیں سوائے اس کے کہ ہمارا مقصد پورا ہو جائے اپنے فرض سے غافل نہ ہونے دے۔میں نے ایک تحریک پیش کی تھی جس میں انیس مطالبات تھے ان میں سے مالی مطالبہ کے متعلق جماعت نے جو جواب دیا وہ شاندار تھا۔میں نے ساڑھے ستائیس ہزار کا مطالبہ کیا تھا مگر وعدے ایک لاکھ آٹھ ہزار کے ہوئے جن میں سے اٹھاسی ہزار وصول ہو چکا ہے گویا ہیں ہزار کے وعدے ابھی