خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 60

خطبات محمود ۶۰ سال ۱۹۳۵ء اچھوں کی زیادتی ہے اور جب پرو پیگنڈا کیا جائے گا تو اچھے کھڑے ہو جائیں گے اور کہہ دیں گے کہ ان زیادتیوں کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کیا جا سکتا اور بھی بیسیوں طریق ہیں جن سے شرفاء متاثر ہوں گے۔اگر اللہ تعالیٰ نے سلسلہ احمدیہ کو اس لئے قائم کیا ہے کہ تا حق وصداقت کو قائم کرے تو کیا تم سمجھتے ہو کہ اس نے ہمیں ہتھیاروں سے محروم ہی رکھا ہے۔خدا تعالیٰ کبھی ایسا نہیں کیا کرتا۔جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے درمیان قعر دریا تخته بندم کرده باز می گوئی که دامن تر مکن ہشیار باش وہ اگر کہتا ہے کہ بغاوت اور قانون شکنی نہ کرو تو ضروری ہے کہ اس نے حفاظت کے اور ہتھیار رکھے ہوں ورنہ اس پر الزام آتا ہے کہ اس نے ہمیں فتح کے سامانوں سے محروم کر دیا۔جن باتوں سے وہ منع کرتا ہے یقین جانو کہ وہ فتح کے سامان نہیں ہیں۔پس اپنے اندر نیکی تقوی طہارت پیدا کرو ، دیانت کو مدنظر رکھو ، قانون کی پابندی کرو، سلسلہ کی روایات کو برقرار رکھو اور ان دو باتوں کو بھی پیش نظر رکھو۔اول یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک شعر ہے۔اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاه دار کآخر کنند دعوائے پیمبرم آپ کے دل کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسلمان کہلانے والے خواہ کتنے ہی دشمن کیوں نہ ہو جائیں پھر بھی ان کا لحاظ کرنا کیونکہ آخر وہ میرے پیمبر کی محبت کا دعوی کرتے ہیں۔دوم یہ کہ حکومت برطانیہ کے جاہ و جلال کے لئے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض پیشگوئیاں ہیں۔آپ کے یہ الہامات ہمارے لئے ہدایت ہیں پس اپنے کاموں میں انہیں مدنظر رکھو۔ہاں فتح حاصل کرنے کے لئے ہر قربانی اور جد و جہد کر وصرف اس بات کا خیال رکھو کہ مسلمانوں سے یا حکومت سے ایسا بگاڑ نہ ہو جائے کہ بعد میں اسے دور کرنا مشکل ہو۔مجھے یقین ہے کہ اگر آپ لوگ اس طرح کام کریں گے تو اچھے آدمی آگے آئیں گے ، ان کی نیکی پھر اُبھرے گی جو بُروں کی بُرائیوں کو دھو دے گی۔میں اس بات سے آج تک اس لئے روکتا رہا ہوں کہ مجھے ڈر تھا بے احتیاطی نہ ہو