خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 609 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 609

خطبات محمود ۶۰۹ سال ۱۹۳۵ء جن کی تربیت کی ضرورت ہے ابھی بہت لوگ ہماری جماعت میں ایسے ہیں جو سچائی پر قائم نہیں ، ابھی بہت لوگ ہماری جماعت میں ایسے ہیں جو پوری طرح دیانت اور امانت سے کام نہیں لیتے ، ابھی بہت لوگ ہماری جماعت میں ایسے ہیں جن کا دوسروں سے معاملہ اچھا نہیں۔پس جب تک ہماری جماعت جھوٹ سے اتنی شدید نفرت نہیں کرتی کہ وہ موت کو قبول کرنا آسان سمجھے مگر جھوٹ بولنے کے لئے تیار نہ ہو ، جب تک ہماری جماعت دیانت پر ایسی مضبوطی سے قائم نہیں ہو جاتی کہ وہ موت کو قبول کرنا آسان سمجھے مگر خیانت کے لئے تیار نہ ہو ، جب تک ہماری جماعت اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی اور عصیان سے اتنی شدید نفرت نہ کرے کہ وہ موت کو آسانی سے قبول کرنے کے لئے تیار ہو جائے مگر الہی احکام کی نافرمانی نہ کرے اُس وقت تک نہیں کہا جا سکتا کہ ہماری زندگیاں روحانی زندگیاں ہیں اور ہمارے لئے ابتلاؤں اور مشکلات کی ضرورت نہیں۔دنیا میں کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اس لئے جھوٹ نہیں بولتے کہ وہ سمجھتے ہیں جس ماحول میں وہ رہتے ہیں اس میں جھوٹ بول کر عزت کی زندگی بسر نہیں کر سکتے مگر کیا ایک مثال بھی ایسی پیش کی جاسکتی ہے کہ ہماری جماعت میں سے کسی نے اس لئے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا ہو کہ اس جماعت میں رہ کر جھوٹ بولنا اس کے لئے ناممکن ہے۔یا کیا ایک مثال بھی ایسی پیش کی جاسکتی ہے کہ ہماری جماعت میں کسی نے اس لئے خیانت اور دھوکا بازی کو چھوڑ دیا ہو کہ اس جماعت میں رہ کر خیانت کرنا موت کو خریدنا ہے۔پھر کیا ایک مثال بھی ایسی پیش کی جاسکتی ہے کہ ہماری جماعت میں سے کسی نے اس لئے عصیان وطغیان کو ترک کر دیا ہو کہ اس جماعت میں رہ کر خدا تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی یا اس کے فرائض کی بجا آوری میں کوتا ہی موت ہے۔اگر نہیں تو پھر جب تک ہماری جماعت کو یہ مقام حاصل نہیں ہوتا اور جب تک جماعت کے افراد اس حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ جہاں کسی نے گناہ کیا اس نے گویا طاعون اور ہیضے کے کیڑے چھوڑ دیئے۔اُس وقت تک کون کہہ سکتا ہے کہ تربیت اور جماعت کی ترقی کے لئے مشکلات و مصائب کا آنا اور جماعت کا قربانیوں کے لئے تیار رہنا بہت بوجھ ہے۔کیا ممکن ہے کہ گناہ کی بجائے اگر کوئی شخص ہینہ یا طاعون کے کیڑے ایک شہر میں چھوڑ دے تو لوگ اسے نفرت کی نگاہ سے نہ دیکھیں اور اس سے محبت اور پیار کریں۔پھر کیوں لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ ہیضہ کے کیڑوں سے ایک شہر کو جتنا نقصان پہنچ سکتا ہے وہ اس نقصان کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا جو جھوٹ کے کیڑوں سے انسانوں کو پہنچتا ہے۔یا