خطبات محمود (جلد 16) — Page 604
خطبات محمود ۶۰۴ سال ۱۹۳۵ء بھلا مانس سے پوچھے کہ تجھے کونسی ایسی مصیبت پڑی ہے کہ تو عید سے پہلے قربانی کا گوشت کھائے بغیر نہیں رہ سکتا۔پھر اس نے یہ حیلہ بتایا ہے کہ چونکہ عید کی نماز بڑے شہر میں ہوا کرتی ہے، گاؤں میں نہیں ہوتی اس لئے اگر کوئی نماز سے قبل قربانی کا گوشت کھانا چاہے تو وہ شہر سے دو تین میل باہر جائے اور وہاں قربانی کر دے اور کھالے اس طرح قربانی بھی ہو جائے گی اور پھر شہر میں آکر نماز پڑھ لے۔گویا رسول کریم ﷺ نے جو باتیں بتائی ہیں ، وہ نَعُوذُ باللہ ایسی مصیبت اور عذاب ہیں کہ ہم ان پر عمل کر کے امن پاہی نہیں سکتے۔جن لوگوں کے دلوں میں شریعت کی یہ عظمت ہو ان سے کب یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ شریعت کا اعزاز دنیا میں قائم کریں گے۔اور لوگوں کو اس کے احکام کی خوبیاں اور حکمتیں بتا کر ان پر عمل کرنے کی نصیحت کریں گے مگر یہ تو شریعت کی بے قدری کا انتہائی قدم ہے۔اس سے نچلا قدم یہ ہے کہ جب جماعت کو کسی قربانی کی تحریک کی جائے تو کہا جائے کہ یہ بوجھ ہم سے کب ہٹایا جائے گا حالانکہ سچے مومنوں کی یہ حالت ہوا کرتی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں شریعت نے ان پر بوجھ نہیں ڈالا بلکہ شریعت نے ان کے بوجھوں کو اُٹھایا ہے چنانچہ دیکھ لو پولوس کہتا ہے شریعت لعنت ہے اور وہ ایک بوجھ ہے جو ہم پر لا دا گیا؟ مگر ہمارا خدا کہتا ہے وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِي أَنْقَضَ ظهرک شریعت بوجھ نہیں شریعت چٹی نہیں بلکہ شریعت تو وہ چیز ہے جو خود تمہارے بوجھوں کو اُٹھاتی ہے۔اُن بوجھوں کو جو تمہاری کمر کو توڑنے والے ہوں۔پس اسلام کہتا ہے کہ قربانیوں کا تم سے اس لئے مطالبہ نہیں کیا جاتا کہ وہ تمہیں تباہ کریں بلکہ اس لئے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ تمہیں مصیبتوں سے بچائیں اور سکھ اور آرام کی زندگی بسر کرائیں لیکن اگر ہم کبوتر کی طرح اپنی آنکھیں بند کر لیں اور کہیں کہ ہمیں کسی قسم کا خطرہ نہیں جس سے محفوظ رہنے کے لئے قربانیوں کی ضرورت ہو تو اس کا سوائے اس کے اور کیا نتیجہ نکل سکتا ہے کہ مصیبتیں آئیں اور ہمیں تباہ کر دیں۔کئی انسان ہوتے ہیں جو روح کے ان سفروں سے ناواقف ہوتے ہیں جو اسے پیش آنے والے ہوتے ہیں اور وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ دنیوی زندگی اُخروی زندگی کے مقابلہ میں اتنی بھی نہیں جتنی سمندر کے مقابلہ میں ایک قطرہ کی حیثیت ہوتی ہے۔جو شخص لندن جانے والا ہو اگر اُسے یہ کہا جائے کہ بٹالہ میں تجھے اچھا کھانا کھلا دیا جائے گا آگے لندن تک تم فاقے کرتے جانا تو کیا وہ اسے منظور کرے گا ؟ بلکہ میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص کلکتہ تک ہی جانے والا ہو اور اسے کہا جائے کہ امرتسر میں تجھے پلاؤ کھلا دیا جائے گا مگر کلکتہ تک جو