خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 603 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 603

خطبات محمود ۶۰۳۔سال ۱۹۳۵ء سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے متبع ایک لمبے عرصہ تک شریعت کے پابند رہے اور ان انعامات کے وارث ہوتے رہے جو خدا تعالیٰ کے پیاروں کے لئے مقدر ہیں۔یہاں تک کہ گورسول کریم ﷺ کے زمانہ میں آکر عیسائیوں کی حالت بہت بگڑ گئی مگر پچھلے بزرگوں کا اثر ایک حد تک ان میں باقی تھا۔اور اس خرابی کے زمانہ میں بھی ایک حصہ ان کا ایسا تھا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے ایسی محبت رکھتے ہیں کہ جب اس کا ذکر آتا ہے تو ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔پس جب حواریوں کی اللہ تعالیٰ نے تعریف کی ہے تو ہمیں تسلیم کرنا پڑیگا کہ یہ خیال کہ شریعت نَعُوذُ بِالله لعنت ہے ان سے شروع نہیں ہوا اور نہ ان کے زمانہ سے شروع ہوا بلکہ ایک لمبے عرصہ کے بعد آہستہ آہستہ عیسائیوں میں یہ خیال آتا گیا کہ شریعت لعنت ہے۔مسلمانوں نے بھی ایک لمبے عرصہ تک شریعت کی قدر کی اور اس کے احکام کی بجا آوری کو اپنی روحانی ترقی اور خدا تعالیٰ کے قرب کے لئے ضروری سمجھا لیکن رفتہ رفتہ ان کی یہ حالت ہو گئی کہ جب کوئی شریعت کی بات ان تک پہنچتی تو بسا اوقات بجائے یہ خیال کرنے کے کہ شریعت کے احکام ہمارے لئے ایک رحمت ہیں اور یہ خدا تعالیٰ کا احسان ہے کہ وہ ہم سے خدمت لے رہا ہے ، وہ سمجھتے کہ یہ ایک چٹی ہے جو ہم پر پڑ گئی اور وہ اس سے بچنے کی کوشش کرتے۔چنانچہ مسلمانوں میں اس قسم کے مسائل پائے جاتے ہیں کہ شریعت کا فلاں حکم جو ہے اس سے بچنے کے لئے کونسی ایسی کوشش کی جائے کہ انسان گنہگار بھی نہ ہو اور وہ کام بھی نہ کرنا پڑے۔اس پر انہوں نے کتاب الحیل کی قسم کی کتا بیں تک لکھ ڈالی ہیں۔جن کا مقصد یہ ہے کہ بغیر گنہگار بننے کے انسان کس طرح بعض شرعی احکام کی بجا آوری سے بچ سکتا ہے۔مثلاً حیلوں میں سے ایک حیلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی عورت کو تین دفعہ طلاق دے چکا ہو اور وہ پھر اُسی عورت سے شادی کرنا چاہتا ہو تو اُس کا حلالہ نکالا جائے یعنی ایک رات کے لئے کسی اور مرد سے جھوٹا نکاح پڑھا دیا جائے حالانکہ حلالہ سب سے زیادہ حرام چیز ہے۔پھر وہ یہاں تک گر گئے کہ ایک بڑی کتاب میں جو ایک بڑے عالم کی لکھی ہوئی ہے میں نے پڑھا کہ اگر کوئی عید الضحی کے دن نماز عید سے پہلے قربانی کا گوشت کھانا چاہے تو کس طرح کھائے ؟ چونکہ شرعی مسئلہ یہ ہے کہ نماز عید کے بعد قربانی کی جائے اس لئے لازماً قربانی کا گوشت نماز کے بعد ہی کھایا جا سکتا ہے مگر وہ اس امر کے جواز کیلئے حیلہ پیش کر رہا ہے کہ اگر کسی کا جی چاہے کہ نماز سے پہلے قربانی کا گوشت کھائے تو کس طرح کھائے۔کوئی اس