خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 572 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 572

خطبات محمود ۵۷۲ ۳۵ سال ۱۹۳۵ء احرارکومباہلہ کا چیلنج اور اس کی اہم شرائط (فرموده ۲۷ /ستمبر ۱۹۳۵ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- آج میرا ارادہ تو کسی قدر طویل خطبہ پڑھنے کا تھا لیکن سفر سے آتے ہوئے راستہ میں اتنی دیر ہو گئی کہ جمعہ کی تیاری کرتے ہوئے ہی دو بج گئے ہیں اس لئے میں صرف دو باتیں اختصار کے ساتھ بیان کر کے اپنا خطبہ ختم کر دوں گا۔پہلی بات تو ایسی ہے کہ جو جماعت قادیان سے تعلق رکھتی ہے اور ان لوگوں کے ساتھ بھی اس کا تعلق ہے جو یہاں آتے رہتے ہیں۔اور وہ یہ کہ مدت سے قرآن مجید کا درس بند تھا لیکن اس سال کے شروع میں میں نے ارادہ کیا تھا کہ چونکہ ابھی اس کام کی وجہ سے جو احرار کے مقابلہ میں کرنا پڑتا ہے طبیعت پر ایک بوجھ ہے اس لئے اکتوبر سے میں پھر درس دینا شروع کر دوں گا۔سو اول تو آج میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ پہلی اکتوبر سے عصر کے بعد قرآن مجید کا درس جیسا کہ پہلے ہوا کرتا تھا میں اِنشَاءَ اللہ پھر شروع کر دوں گا۔چونکہ ایک لمبے عرصہ تک یہ درس بند رہا ہے اور عادتیں انسان کی طبیعت پر بہت کچھ اثر انداز ہو جاتی ہیں اس لئے محلہ کے عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ اپنے اپنے محلوں میں دوستوں کو اس سے واقف و آگاہ کر دیں باقی یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہوتا ہے کہ وہ جسے چاہتا ہے سننے کی توفیق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے محروم رکھتا ہے۔پھر بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ درس میں شامل ہونے کے باوجود اس سے غافل رہتے یا اسے سمجھ نہیں سکتے۔چاہے ایسا غفلت کی وجہ سے ہو یا شامت اعمال سے