خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 527

خطبات محمود ۵۲۷ سال ۱۹۳۵ء دوسرے سے نقصان کا احتمال نہیں لیکن اگر کشتی سے بہت سے کا رک بندھے ہوں اور ان سے سلیں تو کشتی خطرہ سے محفوظ نہیں سمجھی جاسکتی۔اتحاد کے جہاں فوائد ہیں وہاں یہ نقصان بھی ہے۔میں نے علمی کتابوں میں پڑھا ہے کہ جو لوگ ڈوبنے والوں کو بچانے کے لئے جاتے ہیں ، وہ اکثر خود ڈوب جاتے ہیں۔ڈوبنے والے کو چونکہ ہوش تو ہوتا نہیں وہ بچانے والے کو ایسا زور سے پکڑتے ہیں کہ ساتھ ہی لے ڈوبتے ہیں اس لئے لکھا ہے کہ ڈوبنے والے کے منہ کی طرف نہ جاؤ بلکہ پیٹھ کی طرف سے دھکے مار کر کنارے پر لے آؤ۔تو کمزور طبائع کے لوگ ہمیشہ جماعتی ترقی میں روک ہوتے ہیں ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جن کی موجودگی میں جماعت کی صحیح طاقت کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔میں نے دیکھا ہے کہ ایک تحریک کی جاتی ہے اور ایسے جوش کے ساتھ اس پر جماعت کی طرف سے لبیک کہا جاتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے جماعت تھوڑے عرصہ میں ساری دنیا کو فتح کرلے گی لیکن چھ ماہ کے ہی بعد خاموشی ہو جاتی ہے۔میں نے اس کا پتہ لگایا ہے اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کمزور لوگوں کا اثر نزدیک کے دوسرے لوگوں پر پڑتا ہے اور ان کا آگے دوسروں پر تھی کہ سب پر غنودگی طاری ہو جاتی ہے۔مجھے یاد ہے ہم بچپن میں ایک کھیل کھیلا کرتے تھے۔سو پچاس اینٹیں قریب قریب کھڑی کر کے پھر ایک کو دھکا دے دیتے تو سب کی سب گر جاتیں۔اسی طرح جماعت میں جو لوگ سست ہوتے ہیں ان کا حال ہوتا ہے ہے ایک کی کمزوری دوسرے پر اثر کرتی ہے اور دوسرے کی تیسرے پر۔اس لئے اگر سب میں سے اچھے لوگوں کو نکال لیں تو اس صورت میں گو قربانی کم ہو سکے گی مگر جو بھی ہوگی مستقل ہوگی اور ہم چادر دیکھ کر پاؤں پھیل سکیں گے موجودہ صورت میں تو کمزور پتہ نہیں لگنے دیتے کہ ہماری چادر کس قدر بھی ہے سمجھ لیا جاتا ہے کہ جماعت مثلاً دو لاکھ ہے اور دس لاکھ روپیہ دے سکتی ہے اور اس اندازہ کے مطابق ایک کام شروع کر دیا جاتا ہے مگر بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ اس میں سے پچاس ہزار کسی کام کے نہیں ہیں اور اس طرح پچاس ہزار کا بجٹ بیچ میں سے خارج کرنا پڑتا ہے اور اس کا/ ۱۴ حصہ کے نکل جانے کی وجہ سے کام رہ جاتا ہے تو کمزوروں کی اصلاح ضروری ہے۔آگے کمزوروں کی بھی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ایک منافق ہوتے ہیں اور ایک ہوتے تو مخلص ہیں مگر ان پر مایوسی طاری ہو جاتی ہے۔ایسے لوگوں کو اگر ہمت دلائی جائے اور جوش پیدا کیا جائے تو وہ اُٹھ سکتے ہیں ایسے لوگوں کو اُٹھانا مشکل نہیں ہوتا بشرطیکہ جو ہوشیار ہیں وہ اپنا فرض ادا کریں۔قرآن کریم میں بار بار آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مُردوں کو