خطبات محمود (جلد 16) — Page 429
خطبات محمود ۴۲۹ سال ۱۹۳۵ء کیا کرنا چاہئے فی الحال میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر ہم میں سے کوئی شخص اس فعل کا ارتکاب کر یگا تو وہ دو بیوقوفیاں کریگا۔ایک یہ کہ وہ خدا کا جرم کریگا اس لئے کہ جرم کی نوعیت کے خلاف اس نے سزا دی۔مجرم کی نوعیت کچھ اور سزا چاہتی تھی اور اس نے کچھ اور سزا دی۔اور پھر خودسزا دی جو اس کے لئے جائز نہیں تھی۔دوسرے یہ کہ وہ ایک بے فائدہ فعل کر یگا اس لئے کہ اس لڑکے کی حیثیت ہی کیا ہے۔وہ ایک گدا گر کا لڑکا ہے اس کو مار کر تم دنیا میں کیا تغیر کر لو گے کیا اس سے پہلے دنیا میں اس کا وجود کسی خاص فائدہ کا باعث ہے کہ اب دنیا کو تم اس سے محروم کر دو گے۔پھر جبکہ یہ فعل اس کا نہیں بلکہ یہ فعل ان انگیخت اور سازش کرنے والوں کا ہے جو احرار کے لیڈر بنے پھرتے ہیں، یہ فعل ان حکام کا ہے جو احرار کی پیٹھ بھرتے ہیں ، تو اگر تم اسے مار پیٹ لو گے یا قتل بھی کر دو گے تو سوائے گنہگار بننے کے اور کیا فائدہ ہو گا اس طرح تو تم قانون کے بھی گنہگار بنو گے اور شریعت کے بھی گنہگار بنو گے۔پس تم دو بیوقوفیاں کرو گے۔ایک شریعت کے خلاف چلو گے اور ایک بے فائدہ کام کرو گے۔اس لڑکے کی تو دنیا میں کوئی حیثیت ہی نہیں۔وہ تو دنیا میں پیدا ہوا نہ ہوا برابر ہے۔پس اس فعل سے اسے کیا نقصان پہنچ جائیگا۔پھر اگر تم یہ فعل کر بھی لو تو احمدیت کو اس سے کیا فائدہ ہوگا۔صرف یہ ہو گا کہ جماعت کی بد نامی ہوگی اور دشمن کو اور زیادہ اعتراض کر نی کا موقع مل جائیگا ، وہاں اس سے دشمن ضرور فائدہ اُٹھا لیگا۔جیسے مستری محمد حسین مارا گیا۔تو انہوں نے بڑے فخر سے کہنا شروع کر دیا۔محمد حسین شہید۔مستری کا لفظ بھی اب وہ اس کے لئے استعمال نہیں کرتے بلکہ بعض جگہ تو میں نے مولوی محمد حسین لکھا ہوا دیکھا ہے۔پس تم جانتے ہو تمہارے اس فعل کا کیا نتیجہ ہو گا؟ صرف یہ نتیجہ نکلے گا کہ دشمن اسے بڑے بڑے القاب دے دیگا اور کہے گا جناب مولانا محمد حنیف شہید۔اگر تم کہو کہ دشمن کا یہ غلط پرو پیگنڈا ہو گا۔تو تم یا درکھو تم تھوڑے ہو اس لئے تمہاری ہر بات غلط ہے اور دشمن کثیر ہے اور اسکی ہر بات صحیح مانی جاتی ہے۔کیا تم نے سنا نہیں کہ ایک امیر آدمی کی کسی مجلس میں بیٹھے ہوا خارج ہوگئی تو لوگ کہنے لگے دیکھو! انہوں نے کیا خوب حدیث پر عمل کیا ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہوا کو روکنا نہیں چاہئے۔پھر طب سے بھی ثابت ہے کہ اگر ہوا رو کی جائے تو اس سے نقصان پہنچتا ہے دوسرے ہی دن یہ دیکھ کر کسی نوجوان نے جو ساتھ ہی بے شرم بھی تھا مجلس میں یہی حرکت کر دی۔تو ہر طرف سے یہ آواز آنے لگی کہ کیسا نامعقول ہے ، کیسا بے حیا اور بے شرم ہے مجلس کے آداب کا اس نے کوئی خیال نہیں