خطبات محمود (جلد 16) — Page 428
خطبات محمود ۴۲۸ سال ۱۹۳۵ء ہمارے راستہ میں روک ہے تو ہمارا جی چاہتا ہے ہم خود کشی کر لیں۔ایسا ایک خط نہیں بلکہ کئی خطوط ملے ہیں جو مختلف لوگوں نے مختلف علاقوں سے لکھے ہیں اور مجھے نہایت مشکل سے انہیں روکنا پڑتا ہے۔ایسی حالت میں ہوسکتا ہے کہ بعض لوگ کوئی ایسی حرکت کر بیٹھیں جس سے میں اب تک جماعت کو روک رہا ہوں اس لئے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اگر فرض کر لو ہمارے شور کے نتیجہ میں گورنمنٹ حملہ آور کو ایسی ہی سزا دے دے جیسی بعض لوگ چاہتے ہیں یا کوئی اور سخت دفعہ اس پر لگا دے اور اسے تین یا چار سال کے لئے قید کر دے۔یا فرض کرو گورنمنٹ کچھ نہیں کرتی اور تم میں سے بعض جو شیلے اُٹھتے ہیں اور اسے مارتے پیٹتے ہیں یا تم میں سے کوئی جو شیلہ اُٹھتا ہے اور فرض کرو اسے قتل کر دیتا ہے تو پھر کیا نتیجہ نکلے گا۔ہمیں عقل سے کام لے کر سوچنا چاہئے کہ اگر ہم میں سے کوئی شخص ایسی حرکت کر بیٹھے تو اس کا کیا نتیجہ ہو گا ؟ سزا کے متعلق یا د رکھو کہ اسلام کا حکم ہے۔جَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا ۳ یعنی سزا نوعیت کے مطابق ہو ا کرتی ہے۔کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ جس طرح عملی طور پر اس کی حملہ کرتے وقت صرف دو لاٹھیاں چلیں گونیت اُس کی قتل کی تھی اسی طرح اگر تم میں سے کوئی اس کو دو لاٹھیاں مار لیتا ہے تو کیا تم سمجھ سکتے ہو اس طرح جماعت کی عزت محفوظ ہو جائے گی۔یا کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ اس طرح اس ہتک کا ازالہ ہو جائے جو اس وقت ہماری جماعت کی کی جارہی ہے۔اگر یہ نہیں ہوگا تو پھر تم بدلہ لیکر کیا کر سکتے ہو اور اگر تم میں سے کوئی اس کا یہ جواب دے کہ ہم اسے دو لاٹھیاں کیوں ماریں گے اسے قتل کیوں نہ کر دیں گے۔تو میں تم سے یہ پوچھتا ہوں کہ کیا یہ فعل اسلام میں جائز ہوگا ؟ تاریخوں میں لکھا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ایک شخص نے خنجر کے ساتھ حملہ کیا اور آپ کا پیٹ چاک کر دیا ، وہ پکڑا گیا، تو صحابہ نے آپ سے پوچھا کہ ہم اس کے ساتھ کیا سلوک کریں۔آپ نے حضرت امام حسن کو بلوایا اور وصیت کی کہ اگر میں مر جاؤں تو میری جان کے بدلے اس کی جان لے لی جائے لیکن اگر میں بچ جاؤں تو پھر اسے قتل نہ کیا جائے۔سے کتنے شدید احکام ہیں جو ہماری شریعت نے اس بارے میں دیئے ہیں اور کس طرح ممکن ہے کہ ہم انہیں نظر انداز کرسکیں۔اگر دوسرا شعائر اللہ کی بے حرمتی کرتا ہے تو کیا اس کے بدلہ میں ہم خود بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کی بے حرمتی کرنے لگ جائیں اور کیا یہ ہمارے لئے جائز ہوگا ؟ میں اس پر تفصیلی روشنی ڈالوں گا کہ ایسی صورت میں ہمیں