خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 388

خطبات محمود ۳۸۸ سال ۱۹۳۵ء اس کے لئے بددعا کر دی جائے۔ہماری جماعت کے ایک صاحب ہوا کرتے تھے جو میرے استاد بھی تھے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بھی انہوں نے بہت خدمت کی ، میں ہمیشہ ان کا ادب کیا کرتا تھا اور اب بھی کرتا ہوں۔انہیں فٹ بال کا بہت شوق تھا ہم بھی فٹ بال کھیلا کرتے لیکن فٹ بال کھیلتے ہوئے جب ذرا سا بھی اختلاف ہو جاتا تو وہ بددعائیں کرنے پر تیار ہو جاتے۔قاعدہ ہے کہ فٹ بال کھیلتے وقت اگر کسی شخص کا فٹ بال کو ہاتھ لگ جائے تو یہ اس فریق کی غلطی سمجھی جاتی ہے اور دوسرے فریق کو ایک لک مارنے کا حق ہوتا ہے۔اس قسم کا جب بھی کھیلتے وقت کوئی جھگڑا ہو جاتا تو وہ کھڑے ہو کر بے اختیار قسمیں کھانے لگ جاتے کہ خدا کی قسم ! ایسا نہیں ہوا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِینَ۔خدا کا غضب اترے اگر ہم نے جھوٹ بولا ہو۔ہم ہمیشہ انہیں سمجھاتے کہ یہ کھیل ہو رہی ہے اور ہم سب کھیلنے کے لئے یہاں آئے ہیں بھلا یہاں مباحثہ اور مباہلہ کا کیا تعلق ہے مگر ان پر اثر نہ ہوتا۔ایک دفعہ کی بات تو مجھے آج تک یاد ہے اور اس کا مجھ پر اتنا گہرا اثر ہے کہ وہ نظارہ اور وہ جگہ جہاں وہ واقعہ ہوا مجھے پوری طرح یاد ہے۔ریتی چھلہ میں ہم فٹ بال کھیل رہے تھے جنوبی طرف وہ پارٹی تھی جس طرف مولوی صاحب تھے اور شمالی طرف دوسری پارٹی۔میں بھی انہی کی طرف تھا۔دوسری طرف سے بال لایا جا رہا تھا کہ آپس میں مقابلہ ہو گیا۔ایک بال کو ادھر لے جانے کی کوشش کرے۔اور دوسرا اُدھر ، اسی کشمکش میں مولوی صاحب نیچے گر گئے۔دوسرے کھلاڑی نے یہ خیال کر کے کہ بال کو ہاتھ لگ گیا ہے جھٹ کہہ دیا کہ ہینڈ بال۔اب مولوی صاحب یہ سنتے ہی کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے مجھ سے مباہلہ کر لو، ابھی کر لو یہاں نہیں کرتے تو بڑی مسجد میں چلو۔ہم اب ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ مولوی صاحب یہ کھیل ہے اس کا مباہلہ سے کیا تعلق ہے اور مولوی صاحب ہیں کہ اُچھلتے جاتے ہیں اور کہتے ہیں مباہلہ کر لو اس کے سوا اس کا علاج ہی کوئی نہیں۔تو ایک یہ لوگ ہوتے ہیں اور گو جس شخص کا میں نے واقعہ سنایا ہے ان کے دماغ میں نقص تھا مگر کئی ہوشمند بھی ایسے ہوتے ہیں جو اس قسم کی حرکات کر بیٹھتے ہیں۔چنانچہ ایک اور شخص کا واقعہ مجھے یاد آ گیا وہ پہلے یہاں انجمن کے ملازم ہوا کرتے تھے پھر پیغامیوں میں جاملے۔وہ ایک دفعہ قصاب سے گوشت خرید رہے تھے کہ اس سے جھگڑا ہو گیا وہ فوراً مباہلہ کے لئے تیار ہو گئے اور اسے کہنے لگے یوں فیصلہ نہیں ہو گا آؤ مجھ سے مباہلہ کر لو حالانکہ ان کا قصاب سے کوئی ایک آدھ گوشت کی بوٹی پر جھگڑا تھا۔