خطبات محمود (جلد 16) — Page 352
خطبات محمود ۳۵۲ سال ۱۹۳۵ء قادیان آنا حکومت پنجاب کے ان افسروں کے نظریہ کے مطابق جو تفتیش کے لئے مقرر تھے محض حسن اتفاق تھا اور اس کے بعد سوائے اس کے کچھ نہیں کیا جاتا کہ ایک اخبار کے نمائندہ کو یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ ہم نے جماعت احمدیہ کی حفاظت کا پورا پورا انتظام کیا ہوا ہے اور جب بھی وہ باہر جاتے یا اندر آتے ہیں ، پولیس ان کی حفاظت کرتی ہے۔یہاں جس قدر آدمی بیٹھے ہیں وہ دیکھ سکتے ہیں کہ میرے ساتھ کتنی پولیس ہوتی ہے مگر یہ خبر تمام ہندوستان کے اخباروں میں شائع کرا دی جاتی ہے اور جب ذمہ دار افسروں سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ پولیس ہے کہاں جسے حفاظت کے لئے مقرر کیا گیا ہے آخر وہ کوئی جنات کی قسم میں سے نہیں کہ پوشیدہ ہوں اور انسانی آنکھ سے دکھائی نہ دے تو سوائے خاموشی کے اس کا کوئی جواب نہیں دیا جاتا۔یہ حالات بتاتے ہیں کہ باوجود اس قدیم برطانوی انصاف کے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا جماعت احمدیہ کے معاملہ میں بعض حکام عدل و انصاف سے کام نہیں لیتے آخر ہم چالیس پچاس سال سے برطانوی انصاف کا اقرار کرتے چلے آئے ہیں اور دوسرے لوگ بھی کرتے آئے ہیں بلکہ ایک لحاظ سے گاندھی جی بھی اس امر میں ہمارے ہمنوا ہیں کیونکہ انہوں نے ایک دفعہ کہا تھا کہ میں صرف حکومت کا دشمن ہوں انگریزی قوم کا دشمن نہیں بلکہ اس کا مداح ہوں۔پس اگر چہ گالیاں کھانے میں ہم میں اور گاندھی جی میں فرق ہے مگر دعویٰ کے لحاظ سے ہم میں اور ان میں کوئی فرق نہیں۔اگر فرق ہے تو یہ کہ چونکہ ان کے ساتھ اکثریت ہے، اس لئے احرار ڈرتے ہیں کہ اگر انہوں نے گاندھی جی کی مخالفت کی تو ان کی کھوپڑیاں سہلا دی جائیں گی لیکن ہم چونکہ اقلیت میں ہیں اس لئے وہ ہماری مخالفت کرتے ہیں۔غرض اس میں کچھ شک نہیں کہ انگریزی قوم میں انصاف دوسری قوموں کی نسبت بہت زیادہ پایا جاتا ہے مگر باوجود اس کے ( گو ایک حاکم نے اسے اور مفہوم میں استعمال کیا ہے ) یہ ایک حقیقت ہے کہ جماعت احمدیہ کے معاملات میں بعض حکام کا ہاتھ عدل و انصاف کی تائید میں نہیں اُٹھا۔قانون شکنی کی جاتی ہے اور علی الاغلان کی جاتی ہے سرکاری کاغذات کی رو سے ہماری مملوکہ چیزوں پر حملہ کیا جاتا ہے ، ہماری عمارتوں کو گرایا جاتا ہے، ہمارے راہ چلتے آدمیوں کو گالیاں دی جاتی ہیں، محض افتراء اور جھوٹ کے طور پر ہماری جماعت کے معزز آدمیوں کی نسبت غلط خبریں شائع کی جاتی ہیں اور کوشش کی جاتی ہے کہ فتنہ و فساد کو اور زیادہ بھڑ کا یا جائے۔چند آدمی مٹی ڈالنے